ناروے نے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت روک دی

ناروے نے سعودی عرب کے ہاتھوں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے بہیمانہ اور مجرمانہ قتل کے پیش نظر سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت متوقف کردی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے الجزیرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ناروے نے سعودی عرب کے ہاتھوں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے بہیمانہ اور مجرمانہ قتل کے پیش نظر سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت متوقف کردی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس حوالے سے ناروے کے وزیر خارجہ این ارکسن نے بتایا کہ ’موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ سعودی عرب کو عسکری مقاصد کے لیے دفاعی سامان کا برآمدی لائسنس جاری نہیں کریں گے۔  خیال رہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سعودی عرب نے ڈپٹی انٹیلی جنس چیف احمد العسیری اور شاہی عدالت کے میڈیا ایڈوائزر سعود القحطانی کو برطرف کردیا، جو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے بہت قریبی ساتھی تھے۔ سعودی عرب نے پہلے خاشقجی کے قتل سے انکار کیا تھا لیکن بعد میں اسے خاشقجی کے بہیمانہ قتل کا اعتراف کرنا پڑا ۔ لیکن سعودی عرب اب بھی خاشقجی کی لاش کو اہل خانہ کے حوالے کرنے سے گریز کررہا ہے۔

ناورے کی جانب سے اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے سے قبل اوسلو میں سعودی سفیر کو طلب کرکے جمال خاشقجی کے قتل پر احتجاج بھی کیا گیا۔ ادھر جرمنی نے گزشتہ ماہ واضح کیا تھا کہ وہ جمال خاشقجی کے قتل کے پس پردہ اسباب واضح نہ ہونے تک سعودی عرب کو اسلحہ فراہم نہیں کرے گا۔ سعودی عرب کو خاشقجی کے قتل پر عالمی سطح پر بدنامی اور رسوائی کا سامنا ہے۔ نام نہاد خادم الحرمین شاہ سلمان اب دنیا کو منہ دکھانے کے قابل نیں رہا۔

News Code 1885500

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 16 =