رواں سال ایک کروڑ لوگ کینسر کی وجہ سے موت کا شکار

عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق روک تھام اور جلد تشخیص کے باوجود رواں سال دنیا بھر میں تقریباً ایک کروڑ لوگ کینسر کی وجہ سے موت کا شکار ہوگئے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق روک تھام اور جلد تشخیص کے باوجود رواں سال دنیا بھر میں تقریباً ایک کروڑ لوگ کینسر کی وجہ سے موت کا شکار ہوگئے ہیں۔ انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر ( آئی اے آر سی) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2018 میں دنیا بھر میں ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ 81 لاکھ کینسر کے نئے کیسز سامنے آئے، جن میں سے 96 لاکھ کی موت واقع ہوئی۔ اموات کی شرح میں اضافے کی وجہ آبادی کا بڑھنا اور بوڑھا ہونا، ترقی پذیر ممالک میں قوموں کا صحت مند نہ ہونا اور بڑی معیشتوں کے ساتھ منسلک افراد کا خطرناک روایتی رہن سہن ہونا ہے۔

آئی اے آر سی کا کہنا تھا کہ پرہیز پر توجہ مرکوز کرنے، ورزش کے لیے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنے، تمباکونوشی سے روکنے اور صحت مند غذائیں کھانے سے کچھ قوموں میں کینسر کی مختلف اقسام میں کمی واقع ہوئی، تاہم اس سب کوششوں کے باوجود اب تک نئے مریضوں کی مجموعی تعداد بڑھ رہی ہے۔

رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ 5 میں سے ایک مرد اور 6 میں سے ایک عورت کو ان کی زندگی میں کینسر ہوگا جبکہ عالمی ادارہ صحت نے یہ امکان ظاہر کیا کہ یہ بیماری 21 ویں صدی میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہوسکتی ہے۔ کینسر کی اقسام میں دیکھا جائے تو پھیپڑوں کا کینسر مجموعی طور پر سب سے بڑا قاتل رہا اور اس سے 18 لاکھ اموات ہوئی جو عالمی اعداد و شمار کے تقریبا ایک چوتھائی کے برابر ہے۔ تاہم خواتین کے لیے پھیپڑوں کے کینسر سے زیادہ خطرناک چھاتی کا کینسر رہا اور 15 فیصد خواتین اس سے موت کا شکار ہوئی جبکہ پھیپڑوں کے کینسر سے اموات کی شرح 13.8 فیصد اور کلوریکٹل کینسر کی 9.5 فیصد رہی۔

News Code 1883923

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 2 =