بعض امریکی طاقتیں امریکہ اور روس کے تعلقات کو قربان کرنا چاہتے ہیں

روس کے صدر ولادیمیئر پوتین نے کہا ہے کہ امریکہ میں بعض مخصوص طاقتیں اپنے پارٹی مفادات کے لیے امریکہ اور روس کے تعلقات کو قربان کرنا چاہتے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے اسپوٹنیک کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیئر پوتین نے کہا ہے کہ امریکہ میں بعض مخصوص طاقتیں اپنے پارٹی مفادات کے لیے امریکہ اور روس کے تعلقات کو قربان کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے دنیا کے مختلف ممالک میں تعینات روسی سفارتکاروں سے جمعرات کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ اُن کی سربراہ ملاقات انتہائی کامیاب رہی جس میں کچھ مفید سمجھوتے بھی طے پائے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کامیاب سربراہ ملاقات کے مستقبل میں کیا اثرات ظاہر ہوتے ہیں تاہم انہوں نے ان سمجھوتوں کی نشاندہی نہیں کی۔صدر پوٹن نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ امریکہ میں کچھ ایسی طاقتور سیاسی قوتیں ہیں جو اپنے مخصوص مفادات کی خاطر سربراہ ملاقات کے مثبت ثمرات کا اثر زائل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ سیاسی قوتیں لاکھوں امریکیوں کے روز گار اور امریکی کاروباروں کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ پوتین کا کہنا تھا کہ چند گھنٹوں کی اس ملاقات میں امریکااور روس کے مابین برسہا برس سے جاری مسائل کو حل نہیں کیا جا سکتا تھا تاہم اختلافات کے باوجود دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ امریکاروس تعلقات سرد جنگ کے زمانے سے بھی زیادہ غیر تسلی بخش ہیں اور انہیں بہتر بنانے کیلئے ایک نئی شروعات کرنے پر اتفاق کیا گیا۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اعلیٰ ترین سطح پر رابطے جاری نہیں رہیں گے اور تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں نہیں ہوں گی تو تخفیف اسلحہ کا معاہدہ بھی جلد ختم ہو جائے گا۔ دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے کہاہےکہ پیوٹن سے دوسری ملاقات کا خواہشمند ہوں تاکہ پہلی ملاقات میں طے کردہ امور پر عمل درآمد ہوسکے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں جمعرات کو ٹرمپ نے لکھا کہ وہ پوٹن کے ساتھ دوسری ملاقات چاہتے ہیں تاکہ پہلی ملاقات میں طے کردہ امور پر عمل درآمد کا آغاز ہو سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پوٹن کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے مشرق وسطیٰ، جوہری پھیلاؤ، سائبر حملوں، تجارت، یوکرائن اور شمالی کوریا سمیت متعدد اہم امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

News Code 1882392

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 2 =