مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شام میں فوجی مداخلت کا حکم دینے پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کو اپنے ملک میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ اس نے پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر شام میں فوجی مداخلت کا حکم صادر کیا۔۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد فرانس کے صدر اور برطانیہ کی وزیر اعظم نے اپنی ملکی افواج کو پہلی بار کسی دوسرے ملک میں فوجی مداخلت کے احکامات جاری کئے۔ فرانسیسی اور برطانوی جہازوں نے شام میں کیمیائی حملے کو بہانہ بنا کر شام کیخلاف بمباری میں حصہ لیا۔ فرانسیسی صدر کو اپنے ملک میں ریلوے میں اصلاحات پر یونینز کے مظاہروں کا سامنا ہے اور اب انہیں اپنی خارجہ پالیسی کے حوالے سے ایک تجربے کا سامنا پڑسکتا ہے۔ فرانسیسی صدر رواں ماہ واشنگٹن کا دورہ کریں گے جبکہ انہیں آئندہ ماہ روس کا دورہ کرنا ہے۔ ادھر برطانیہ کی جانب سے بیرون ملک فوجی مداخلتوں کا معاملہ متنازع رہا ہے اور 2003 کی عراق جنگ میں بھی برطانیہ کو خفت کا سامنا کڑنا پڑا تھا۔ تھریسامے نے ہفتے کے روز صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بطور وزیراعظم اپنی افواج کو کسی دوسرے ملک بھیجنا ہمیشہ سے ہی ایک مشکل فیصلہ ہوتا ہے اور میں اس معاملے کو اتنا آسان نہیں لے رہی ہوں۔
شام میں فوجی مداخلت کا حکم دینے پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کو اپنے ملک میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ اس نے پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر شام میں فوجی مداخلت کا حکم صادر کیا۔
News ID 1880058
آپ کا تبصرہ