مہر خبررساں ایجنسی نے میل آن لائن کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ان کے دیگر اتحادیوں نے چند ماہ قبل جب قطر سے سفارتی تعلقات منطقع کرلئے اور اس کے بارڈر سیل کیے تو اس اقدام میں انہیں امریکی حمایت حاصل تھی تاہم اب امریکی صدر ٹرمپ نے قطر کی حمایت کا اعلان کردیا ہے اور اس طرح امریکہ نے دو مالدار عرب ممالک کی دولت میں اپنے پنجے گاڑ دیئے ہیں۔میل آن لائن کے مطابق صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاﺅس میں قطری امیر تمیم بن حماد الثانی سے ملاقات میں کہا ہے کہ " کئی ممالک دہشت گردوں کی مالی معاونت کر رہے تھے اور ہم اسے روک رہے تھے۔ اب قطر بھی اس کام میں ہمارا معاون بن گیا ہے اوردنیا کو دہشت گردوں کی امداد روکے جانے کی تلقین کر رہا ہے۔ ہم قطر کے اس قدام کی تعریف کرتے ہیں۔"
اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ یکے بعد دیگرے قطری تنازعے کے فریق ممالک کے سربراہوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ چند روز قبل ان کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات ہوئی تھی اور انہوں نے متحدہ عرب امارات کے ولی عہد کو بھی امریکہ کے دورے کی دعوت دے رکھی ہے جو اگلے ماہ وہاں پہنچ رہے ہیں۔سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور دیگر ہمسایہ ممالک نے قطر سے اس الزام کے تحت قطع تعلقی کر لی تھی اور اس کے بارڈر سیل کر دیئے تھے کہ قطر دہشت گردوں کی مالی معاونت کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق قطری امیر تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ”امیر تمیم نہایت شریف النفس انسان ہیں اور اپنے ملک میں بے حد مقبول ہیں۔ان کے عوام ان سے محبت کرتے ہیں۔ ہم مشرق وسطیٰ کے اس علاقے میں اتفاق و اتحاد قائم کرنے پر کام کر رہے ہیں اور میرے خیال میں ہمیں کامیابی مل رہی ہے۔قطر کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تنازعے کے خاتمے کے لیے کئی اچھی چیزیں ہو رہی ہیں۔ عرب ذرائع کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ بڑی ذہانت اور ہوشیاری کے ساتھ سعودی عرب سے 11 سمتبر کے دہشت گردانہ کارروائی کا تاوان وصول کررہے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ سعودی عرب اور قطر نے دہشت گردوں کی حمایت امریکہ کے حکم پر کی تھی۔ اور جو نقصان امریکہ کو اپنے پروردہ دہشت گردوں سے پنہچا اس میں سعودی عرب کے وہابی دہشت گردوں کا اہم ہاتھ تھا اسی لئے ٹرمپ کے حکم پر سعودی رعب کا تعلمی نظآم بھی تبدیل کیا جارہا ہے اور سعودی عرب سے وہابی انتہا پسندی کو ختم کرنے کے لئے محمد بن سلمان نے امریکی حکم پر بڑے پیمانے پر اصلاحات کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔
آپ کا تبصرہ