22 فروری، 2018، 6:25 PM

ایران ، مشترکہ ایٹمی معاہدے کو کامیاب نہیں سمجھتا/ پابندیاں برقرار

ایران ، مشترکہ ایٹمی معاہدے کو کامیاب نہیں سمجھتا/ پابندیاں برقرار

اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے چیٹم ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران گروپ 1+5 کے ساتھ مشترکہ جامع ایٹمی معاہدے کو کامیاب نہیں سمجھتا کیونکہ ابھی پابندیاں برقرار ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی  نے لندن میں بین الاقوامی تحقیقاتی مرکز چیٹم ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران گروپ 1+5 کے ساتھ مشترکہ جامع ایٹمی معاہدے کو کامیاب نہیں سمجھتا کیونکہ ابھی پابندیاں برقرار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 14 جولائی سن 2015 میں مشترکہ ایٹمی معاہدے پر دستخط ہوئے جس میں ایران نے اعتماد بحال کرنے کے سلسلے  ایٹمی محدودیت کو 10 سے 15 سال کی مدت تک قبول کیا تھا ۔ اور یہ محدودیت دائمی اور ابدی نہیں ہوگی۔ عراقچی نے کہا کہ موجودہ صورت ميں مشترکہ ایٹمی معاہدہ پر عمل ممکن نہیں رہےگا کیونکہ اس معاہدے میں شامل ممالک اپنے عہد پر عمل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور ایران کے خلاف پابندیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ عراقچی نے کہا کہ ہم نے ایٹمی بحران کو مذاکرات کے ذریعہ پرامن طریقہ سے حل کیا۔ اور ایٹمی معاہدے کو شام، یمن اور دیگر مسائل کے ساتھ جوڑنا بہت بڑی غلطی ہے۔ عراقچی نے کہا کہ یمن ، شام اور ایران کے میزائل سسٹم کو مشترکہ ایٹمی معاہدے سے جوڑنے کی وجہ سے نہ صرف مسئلہ حل نہیں ہوگآ بلکہ مزید پیچیدہ ہوجائےگا، انھوں نے کہا کہ امریکہ ہر روز مشترکہ ایٹمی معاہدے کو کالعدم قراردینے کی دھمکی دے رہا ہے اور مشترکہ ایٹمی معاہدے کی ناکامی کی ذمہ داری امیرکہ پر عائد ہوگی۔

News ID 1878919

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha