پانامہ لیکس کی تحقیقات کا مطالبہ کرنے والے خود چور ہیں

پاکستان میں وہابی تنظیم جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس کے حوالے سے چیف جسٹس کی سربراہی میں تحقیقات کا مطالبہ کرنے والے خود چور ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایکسپریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان میں وہابی تنظیم جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے  ڈیرہ اسماعیل خان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانامہ لیکس کے حوالے سے چیف جسٹس کی سربراہی میں تحقیقات کا مطالبہ کرنے والے خود چور ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاست کا ایک غیر ضروری عنصرجس کے پاس سیاسی زبان اور الفاظ تک نہیں، وہ پاکستان کی سیاست پر قبضہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ہم ان کی اس جمہوری نظام کے خلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

وہابی تنظیم کےسربراہ کا کہنا تھا کہ پانامہ لیکس کے نام سے پوری دنیا سمیت پاکستان میں بھی ایک بھونچال آگیا ہے اوردوسرے ممالک کے حکمرانوں سے پہلے ہمارے ملک کے وزیراعظم نے خلوص نیت کے ساتھ خود کو احتساب کے لئے پیش کیا اور اپوزیشن کو کہا کہ آؤ کمیشن بناتے ہیں اوراگر میں واقعی مجرم ہوں تو گھر جانے کو بھی تیار ہوں اور انہوں  نےتحقیقات کےلیےاپوزیشن کی ہر بات مانی لیکن وزیراعظم کے اعلان کردہ کمیشن کو مسترد کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے پانامہ لیکس کے معاملے پر اپوزیشن کا پارلیمانی کمیٹی کا مطالبہ بھی قبول کیا لیکن وہاں سے بھی اپوزیشن اور تنقید کرنے والے بھاگ گئے وزیراعظم نے تنقید کرنے اور الزامات کی بوچھاڑ کرنے والوں کی فرمائش پر مسئلہ چیف جسٹس کے حوالے کیا لیکن اب وہاں سے بھی اپوزیشن کی جانب سے بھاگنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو کمیشن کے سابق جج قبول نہیں بیوروکریٹ قبول ہیں کمیشن کا مطالبہ کرکے بھی عمران خان بھاگ گئے۔ سربراہ جے یو آئی (ف) کاکہنا تھا کہ عمران خان کی حالت تو یہ تھی کہ جب 1987 میں نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو انہوں نے ان سے درخواست کی کہ میرے پاس گھر تک نہیں مجھے پلاٹ دیا جائے جس پر میں اپنا گھر بناسکوں لیکن عمران خان کے پاس 1983 میں اتنا پیسہ کہاں سے آگیا تھا  کہ انہوں نے پانامہ کمپنی بھی بنالی۔ پانامہ لیکس کے انکشافات کے بعد واضح ہوگیا کہ بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے اور وزیراعظم چور نہیں بلکہ الزامات اور تحقیقات کا مطالبہ کرنے والے خود چورہیں۔

News Code 1864073

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 1 =