مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے صوبہ لرستان کے شہر خرم آباد میں ایک عظيم عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق میں مقدس مذہبی مقامات کے تحفظ کے لئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کیا جائےگا اور عراقی عوام اور حکومت کے سامنے سلفی وہابی دہشت گردوں کی کوئی وقعت اور حیثیت نہیں ہے۔ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ عراق ہمارا ہمسایہ ملک ہونے کے علاوہ مذہبی طور پر بھی اہمیت رکھتا ہے، اس ملک میں کربلائے معلیٰ ، نجف اشرف، کاظمین اور سامرا جیسےمقدس مذہبی مقامات ہیں جن سے اسلام کی تاریخ کے روشن پہلو منسلک ہیں۔ ایران اور اس کے عوام ان مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔ صدر حسن روحانی نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ عراق میں حکومت کے خلاف لڑنے والے سلفی وہابی دہشت گردوں کی سرکوبی کے لئے عراقی عوام کی بڑی تعداد مسلک اور نسل سے بالاترہوکر مقامی فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہی ہے۔ اور سنی و شیعہ ملکر سلفی وہابیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کررہے ہیں۔ صدر حسن روحانی نے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کی طرف اشارہ رکتے ہوئے کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے جو بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں ایرانی قوم کا مسلم حق ہے اور ہم اپنے قومی حق سے ہر گز دست بردار نہیں ہوں گے انھوں نے کہا کہ اگر بعض عالمی طاقتیں ایٹمی پروکآرم کے متعلق ایرانی قوم کی دیانت ۔ حقوق اور اعتقاد کو سمجھ لیں تو ایران کے ایٹمی معاملے کا حل اللہ تعالی کے فضل و کرم سے حل ہوجائۓ گا کیونکہ ایرانی قوم کا اعتقاد ایٹمی ہتھیاروں پر نہیں بلکہ ایٹمی ٹیکنالوجی پر ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے مذاکراتکار میدان میں موجود ہیں جو گروپ 1+5 کے ساتھ قریبی مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ ایرانی قوم کے حقوق کو بحال کرنے کی تلاش و کوشش کررہے ہیں۔
مہر نیوز/ 18 جون / 2014 ء :اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے صوبہ لرستان کے شہر خرم آباد میں ایک عظيم عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق میں مقدس مذہبی مقامات کے تحفظ کے لئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کیا جائےگا اور عراقی عوام اور حکومت کے سامنے سلفی وہابی دہشت گردوں کی کوئی وقعت اور حیثیت نہیں ہے۔
News ID 1837276
آپ کا تبصرہ