مہر خبررساں ایجنسی نے کشمیری ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سرینگر سے ایک سو بیس کلومیٹر دُور کنٹرول لائن کے کلاروس سیکٹر میں پولیس حکام کے مطابق ہندوستانی فوج نے جن تین ’مسلح دراندازوں‘ کو جھڑپ کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا، انہیں درحقیقت فرضی تصادم میں ہلاک کر کے دفن کیا گیا تھا۔
ان تینوں لاشوں کو جمعرات کے روز ضلع افسران کی موجودگی میں قبروں سے نکالا گیا جس کے بعد ان کے لواحقین نے ان کی شناخت کر لی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ بشیر احمد اور فیاض احمد نامی ان اغواء کاروں نے نادی ہل کے تینوں جوانوں کو ایک فوجی یونٹ کے سپرد کیا تھا۔ یہ دونوں فی الوقت پولیس حراست میں ہیں۔ پولیس کے مطابق دونوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ہلاک ہوئے نوجوانوں کو اغوا کیا تھا۔تیرہ اپریل کو بھی شمالی کشمیر کے ہی ہندوارہ قصبہ میں فوج نے پہالڈگی گاؤں میں ایک شدت پسند کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا جو بعد ازاں ایک ستّرسالہ عام شہری ثابت ہوا۔ پولیس نے بشیر اور فیاض کے خلاف اغواء اور فوج کے خلاف قتل کا معاملہ درج کر لیا ہے۔
واضح رہے تیرہ اپریل کو شمالی کشمیر کے ہی ہندوارہ قصبہ میں فوج نے پہالڈگی گاؤں میں ایک شدت پسند کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا جو بعد ازاں ایک ستّرسالہ عام شہری ثابت ہوا۔ اس سلسلے میں ہندوارہ پولیس نے پہلے ہی فوج کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ