17 اپریل، 2009، 1:11 PM

شمعون پریز

اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنے جارحانہ بیانات سے پیچھے ہٹنا شروع کردیا ہے

اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنے جارحانہ بیانات سے پیچھے ہٹنا شروع کردیا ہے

اسرائیلی صدر شمعون پریز نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں جبکہ اسسے قبل وہ باربار ایران کی ایٹمی تنصیبات پر فوجی کارروائي کی بات کرررہے تھے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے جرمن خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اسرائیلی صدر شمعون پریز نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں جبکہ اسسے قبل وہ باربار ایران کی ایٹمی تنصیبات پر فوجی کارروائي کی بات کرررہے تھے۔اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے امریکی صدر باراک اوبامہ کے مشرق وسطیٰ کے بارے میں خصوصی نمائندے جارج میچل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے جوہری خطرے کا فوجی حل نہیں ہے۔پریز نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ جوہری تنازعے کے حل کے لئے پیش رفت کا انحصار بین الاقوامی تعاون پر ہے۔ اسرائیلی صدر کے دفتر کی جانب سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق شمعون پیریز نے کہا کہ ایران پر ممکنہ اسرائیلی حملے کی بات درست نہیں ہے اور نہ ایران کے جوہری مسئلے کا کوئی فوجی حل ہے اس سے قبل اسرائیلی حکام باربار ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں ادھر ایران نے بھی اسرائیل کی کسی بھی کارروائی کا منہ توڑ جواب دینے کے عزم کا اظءار کیا تھا جس پر امریکی وزیر دفاع اور نائب صدر نے اسرائیل کو متنبہ کیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے سے باز رہے ۔

 

News ID 861882

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha