مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فلسطینی ذرائع کے مطابق تازہ ترین سروے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نتن یاہو کی جماعت لیکود کی پارلیمانی پوزیشن کمزور ہوئی ہے اور اس کی نشستوں کی تعداد سابقہ 32 نشستوں کے مقابلے میں 18 سے 19 نشستوں تک محدود ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سابق فوجی سربراہ گادی آیزنکوٹ کی قیادت میں قائم سیاسی اتحاد اس وقت تقریباً 22 نشستوں کے ساتھ سب سے مضبوط حریف کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ غاصب اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) میں حکومت سازی کے لیے 120 میں سے کم از کم 61 نشستیں درکار ہوتی ہیں، تاہم موجودہ اندازوں کے مطابق نہ اپوزیشن اور نہ ہی نتن یاہو کا اتحادی بلاک واضح اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں دکھائی دیتا ہے۔
فلسطینی ذریعے کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کو تقریباً 53 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ نتن یاہو اور مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد 51 سے 54 نشستوں تک محدود رہ سکتا ہے، جس سے سیاسی تعطل کی صورتحال پیدا ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ نتن یاہو ممکنہ طور پر ایسے سیاسی حالات برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے جن کے نتیجے میں کوئی متبادل اتحاد حکومت تشکیل نہ دے سکے اور وہ عبوری یا نگران طرز کی حکومت کے ذریعے اقتدار میں موجود رہیں۔
فلسطینی ذریعے نے مزید کہا کہ مقبوضہ فلسطین کی داخلی سیاسی صورتحال میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عوامی بے اطمینانی آئندہ مہینوں میں اسرائیلی سیاست کے لیے اہم چیلنج بن سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ