مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صعدہ میں یمنی عوام نے مسلح افواج کی حمایت، ’’محاصرے کے مقابلے میں محاصرہ‘‘ کی حکمتِ عملی کی حمایت اور مکہ کو نشانہ بنانے کے جھوٹے دعوے کو بے نقاب کرنے کے لیے ملین مارچ میں شرکت کی۔
صنعاء کے میدان السبعین اور انصار الله یمن کے زیرِ کنٹرول دیگر صوبوں میں بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے مظاہرے کیے۔
اس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہم آج اس بات پر فخر کرنے کے لیے آئے ہیں کہ ہمارا تعلق اسلام سے ہے اور اس بڑے الزام اور اس دور کے جھوٹ کو مسترد کرنے کے لیے آئے ہیں جو سعودی دشمن نے ہمارے عوام کے خلاف پھیلایا ہے۔ ہم اپنے عوام کے خلاف لگائے گئے اس الزام اور ان لوگوں کے مؤقف کے بارے میں بھی اپنی پوزیشن واضح کرنے آئے ہیں جنہوں نے سعودی دشمن کے اس الزام اور جھوٹ کو قبول کیا ہے؛ ایسا الزام جو مکہ کے مقدسات کی توہین ہے۔
مظاہرین نے مزید کہا کہ ہم امت کے مسائل، بالخصوص اسلامی مقدس مقامات، خصوصاً مکہ، مدینہ اور مسجد الاقصیٰ کے دفاع کے حوالے سے اپنے مستقل مؤقف پر زور دیتے ہیں۔ ہم اللہ کی راہ میں جہاد، اس کے دشمنوں کی مخالفت اور اس کے اتحادیوں کی حمایت کے راستے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اپنی آزادی و خودمختاری کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔
مظاہرین نے کہا کہ ہم سعودی دشمن کے خلاف اپنی جنگ اور اپنی مسلح افواج کی حمایت جاری رکھیں گے، جس میں ’محاصرے کے مقابلے میں محاصرہ‘، ’شدت کے مقابلے میں شدت‘ اور اس کے فوجی اجتماعات کو نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی شامل ہے۔
یمن کے مختلف صوبوں میں ہونے والے مظاہروں میں کہا گیا کہ ہم اپنے عوام کے خلاف مکہ کو نشانہ بنانے کے حوالے سے لگائے گئے سنگین الزام، بڑے جھوٹ اور خوفناک تہمتوں کی مذمت اور تردید کرتے ہیں۔ ہماری جانیں مکہ پر قربان ہیں۔ ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس جارحیت کا مختلف اقسام کے جائز انتقام کے ذریعے جواب دینے کا اپنا فطری حق محفوظ رکھتے ہیں اور اپنی قیادت اور فوج کو مناسب طریقے سے جواب دینے کا اختیار دیتے ہیں۔
مظاہرین نے کہا کہ ہم سب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ حقیقی اور باعزت مؤقف کے میدان میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوں یا ہمارے ساتھ مقابلہ کریں، تاکہ مقدس مقامات کے تحفظ اور غیرت کے معاملے میں مخلص افراد کو فریب کاروں سے الگ کیا جا سکے۔
آپ کا تبصرہ