مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ویانا میں بین الاقوامی تنظیموں کے لیے روس کے نمائندے میخائیل اولیانوف نے کہا ہے کہ ایران کے حفاظتی معاہدوں سے متعلق ذمہ داریوں پر عمل درآمد میں موجود مشکلات اچانک اور بلاوجہ پیدا نہیں ہوئیں بلکہ یہ اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کا براہ راست نتیجہ ہیں۔
اولیانوف نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ نے ایران کی ان جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے حفاظتی معاہدوں کے تحت تھیں۔ ان کے مطابق یہ حملے جون 2025 اور فروری 2026 سے اپریل 2026 کے دوران دو مراحل میں کیے گئے۔
روسی نمائندے نے ان حملوں کو بلاجواز، غیر قانونی اور بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ضوابط، بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی متعلقہ قرارداد اور ایجنسی کی جنرل کانفرنس کی قراردادوں کی براہ راست خلاف ورزی ہیں۔
ایران کے جوہری معاملے کو ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز سے سلامتی کونسل میں بھیجے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے اولیانوف نے کہا کہ ایسے ملک کی حفاظتی ذمہ داریوں سے متعلق معاملہ سلامتی کونسل میں بھیجنا جس پر بمباری کی گئی ہو اور جس کی ایجنسی کے زیر نگرانی جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہو، سفارتی آداب کے ابتدائی ترین اصولوں سے بھی تجاوز ہے۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز نے امریکہ اور تین یورپی ممالک برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی تجویز پر ایران کے معاملے کو اس کی ذمہ داریوں کی مبینہ خلاف ورزی کے باعث سلامتی کونسل کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ