مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں عرب لیگ کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے اختتامی اعلامیے میں ایران کے خلاف کیے گئے تمام بے بنیاد دعووں اور الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے وقت میں جب صہیونی حکومت مغربی ایشیا میں بدامنی اور شرارت کا بنیادی ذریعہ بن کر مقبوضہ فلسطین، لبنان، شام اور دیگر عرب و اسلامی ممالک میں فوجی جارحیت، نسل کشی اور جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے، عرب لیگ کے بعض رکن ممالک کی جانب سے ایران پر بے بنیاد الزامات عائد کرنے پر اصرار ناقابل جواز ہے۔ ان ممالک کو ایران پر الزام تراشی کے بجائے فلسطینی عوام کی حمایت، صہیونی حکومت کے قبضے اور توسیع پسندی کا مقابلہ کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
ایران نے اپنی اصولی ہمسایہ پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے خطے کے ممالک کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو مضبوط بنانے اور تفرقہ انگیز مؤقف اختیار کرنے سے گریز کی اہمیت پر زور دیا۔
بیان میں ایران نے ابوموسی، تنب بزرگ اور تنب کوچک جزائر پر اپنی بلاشرکت ملکیت اور خودمختاری کا ایک بار پھر واضح طور پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ جزائر ایرانی سرزمین کا ناقابل جدا حصہ ہیں۔ ایران نے ان جزائر کے بارے میں کسی بھی علاقائی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان پر ایرانی حاکمیت تاریخی شواہد، مسلسل حکومتی اختیار کے استعمال اور بین الاقوامی قانون کے تسلیم شدہ اصولوں پر مبنی ہے۔
سیاسی بیانات میں بے بنیاد دعووں کی تکرار سے ان جزائر سے متعلق تاریخی، جغرافیائی اور قانونی حقائق تبدیل نہیں ہوں گے۔
آپ کا تبصرہ