5 ستمبر، 2026، 11:18 PM

امریکی بم نے ایران میں شادی کی تقریب کو کیسے سوگ میں بدل دیا؟ ٹیلیگراف کی رپورٹ

امریکی بم نے ایران میں شادی کی تقریب کو کیسے سوگ میں بدل دیا؟ ٹیلیگراف کی رپورٹ

برطانوی اخبار ٹیلیگراف نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہتھیاروں کے ماہرین کی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی ایران میں منعقد ہونے والی ایک شادی کی تقریب کو غالباً براہِ راست ایک امریکی ساختہ میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ٹیلیگراف نے رپورٹ کیا کہ شواہد اور ہتھیاروں کے ماہرین کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوبی ایران کے شہر کوہستک میں ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بنانے والا حملہ، ممکنہ طور پر ایک امریکی ساختہ جنگی گولے کے براہِ راست ٹکرانے کے نتیجے میں ہوا۔

ٹیلیگراف کے مطابق، شادی کی تقریب میں تقریباً 350 خواتین اور بچے شریک تھے۔ یہ تقریب صوبۂ ہرمزگان کے شہر سیریک سے منسلک کوہستک شہر میں ایک رہائشی عمارت میں جاری تھی کہ ایک زوردار دھماکے نے عمارت کو تباہ کر دیا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ تقریب جاری تھی اور خواتین و بچے خوشیاں منا رہے تھے کہ اچانک ایک شدید دھماکہ ہوا۔ عمارت کی چھت منہدم ہوگئی اور تقریب میں شریک افراد ملبے تلے دب گئے۔

حادثے کے مقام کی تصاویر اور ویڈیوز کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریباً 500 کلوگرام وزنی ایک رہنمائی شدہ فضائی بم ممکنہ طور پر براہِ راست عمارت سے ٹکرایا تھا۔

مقام کی تصاویر کا جائزہ لینے والے ہتھیاروں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عمارت کی تباہی کا انداز براہِ راست حملے سے مطابقت رکھتا ہے، نہ کہ محض کسی قریبی ہدف پر حملے کے نتیجے میں پھیلنے والے شیل یا بم کے ٹکڑوں سے۔ یہ مکان ایک مواصلاتی ٹاور سے تقریباً 135 میٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔

امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ یکم ستمبر کو ہونے والے حملوں کے دوران اس ٹاور کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

تاہم ماہرین کے مطابق، عمارت کو پہنچنے والے نقصان کی شدت اور نوعیت اس مفروضے سے مطابقت نہیں رکھتی کہ عمارت صرف ٹاور پر کیے گئے حملے کے ٹکڑوں کی زد میں آنے سے تباہ ہوئی۔

بعض ہتھیاروں کے ماہرین نے تصاویر کا جائزہ لینے کے بعد جائے وقوعہ سے ملنے والے بعض ٹکڑوں کو امریکی فوج کے زیرِ استعمال رہنمائی شدہ گولہ بارود سے منسلک کیا ہے۔

ٹیلیگراف نے فوجی ماہرین کے جائزوں کا بھی حوالہ دیا ہے جن کے مطابق حملے کے زاویے اور مقام کو دیکھتے ہوئے اس امکان کو کم سمجھا جاتا ہے کہ یہ کسی دفاعی میزائل کے ٹکرانے یا کسی ایرانی میزائل کے راستے سے منحرف ہونے کا نتیجہ تھا۔

اس واقعے میں کم از کم 5 افراد شہید اور 60 سے زائد زخمی ہوئے۔ شہید ہونے والوں میں ایک چار سالہ بچہ اور 16 سالہ نوجوان بھی شامل تھے۔ ایک 22 سالہ خاتون بھی شدید زخمی ہونے کے باعث بعد میں اسپتال میں دم توڑ گئیں۔

شہداء کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی جاری کی گئی تصاویر میں تابوتوں کے ساتھ لواحقین اور مقامی لوگوں کی بڑی تعداد دیکھی جا سکتی ہے۔ شادی کی تقریب میں بچوں اور دیگر شہریوں کی شہادت نے ایران میں بڑے پیمانے پر غم و غصے کو جنم دیا ہے۔

علاقے کے ایک رہائشی نے حملے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ جگہ کسی فوجی اڈے کی ہوتی تو شاید اس سانحے کو برداشت کرنا آسان ہوتا، لیکن یہ ایک شادی کی تقریب تھی اور لوگوں کی خوشیاں ماتم میں بدل گئیں۔

امریکہ نے شادی کی تقریب کو براہِ راست نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن اس واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے اور امریکی فوج جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس واقعے کے غلطی سے پیش آنے کے امکان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

یہ واقعہ یکم ستمبر کو جنوبی ایران پر امریکہ کے حملوں کی ایک لہر کے دوران پیش آیا۔ امریکہ کا دعویٰ تھا کہ ان حملوں میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار اور مواصلاتی تنصیبات سمیت مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

ٹیلیگراف کے مطابق، آزاد ماہرین کی تحقیقات، جائے وقوعہ کی تصاویر اور دیگر شواہد اس امکان کو تقویت دیتے ہیں کہ شادی کی تقریب کی عمارت کو براہِ راست ایک امریکی ساختہ جنگی گولے نے نشانہ بنایا؛ تاہم اب بھی یہ واضح نہیں کہ آیا اس عمارت کو باقاعدہ فوجی ہدف کے طور پر منتخب کیا گیا تھا یا پھر یہ حملہ کسی آپریشنل غلطی کا نتیجہ تھا۔

اس واقعے نے امریکہ اور ایران کی جنگ میں شہری ہلاکتوں اور رہائشی علاقوں کے قریب موجود فوجی اہداف پر حملے کے دوران حملہ آور افواج کی ذمہ داری کے حوالے سے بحث ایک بار پھر چھیڑ دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، کوہستک کی شادی کی تقریب پر امریکی حملے کی یہ روایت، جیسا کہ بعض مخالف دھڑے تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں، صرف ایرانی حکام کے بیانات پر مبنی نہیں ہے۔

نیویارک ٹائمز، رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی تصاویر، ویڈیوز اور جائے وقوعہ سے ملنے والے ہتھیاروں کے ملبے کا جائزہ لے کر ایسے شواہد پیش کیے ہیں جو حملے کو امریکی افواج سے منسوب کیے جانے کے امکان کو تقویت دیتے ہیں۔

News ID 1941157

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha