مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمنی ذرائع نے کہا ہے کہ یمنی فوج کے حملوں کے خدشات کے باعث سعودی افواج کے متعدد اعلی فوجی کمانڈروں نے یمن کے جزیرے سقطری سے اچانک انخلا کرتے ہوئے حدیبو کے ہوائی اڈے کے ذریعے جزیرہ چھوڑ دیا، جبکہ ان کی منزل تاحال معلوم نہیں ہوسکی۔
یمنی ذرائع نے بتایا کہ سعودی فوج کے متعدد اعلیٰ کمانڈروں نے سقطری میں «808» فورسز کے اڈے سے نکل کر جزیرے کے مرکزی شہر حدیبو کے ہوائی اڈے کے ذریعے سقطری چھوڑ دی۔
ذرائع کے مطابق ان کمانڈروں کی منزل کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئی، تاہم کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے یمنی فوج کے میزائل اور ڈرون یونٹوں کی جانب سے اپنے فوجی کمانڈ ہیڈکوارٹر کو ممکنہ نشانہ بنائے جانے کے خدشے کے باعث سقطری سے انخلا کیا۔
یمنی ذرائع نے مزید بتایا کہ سعودی کمانڈروں کا یہ انخلا اس وقت ہوا جب سعودی فوج کے کچھ دیگر کمانڈر «جبل النار» کے اڈے سے سقطری پہنچے تھے۔ مذکورہ اڈہ گزشتہ دو روز کے دوران المخا کے نواحی علاقے میں صنعاء کی افواج کے میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔
دوسری جانب سقطری کے گورنر ہاشم السقطری نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران جزیرے کے عوام اور دیگر زیرِ قبضہ علاقوں کے رہائشیوں سے سعودی عرب کی موجودگی اور اقدامات کے خلاف مزاحمت کی اپیل کی ہے۔
انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے ان علاقوں پر مسلط کردہ نام نہاد سرپرستی کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے عوام سے کہا کہ وہ اس صورتحال کے خلاف کھڑے ہوں۔
ہاشم السقطری نے ساتھ ہی عوام کو ان اپیلوں کے حوالے سے بھی ہوشیار رہنے کی تاکید کی جن کا مقصد سازشوں کو ہوا دینا ہے۔
آپ کا تبصرہ