مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ویانا میں بین الاقوامی تنظیموں کے لیے ایران کے مستقل مشن نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارہ اپنے بنیادی منشور سے ہٹ کر حفاظتی نگرانی پر ضرورت سے زیادہ توجہ دے رہا ہے، جبکہ اسے پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے فروغ پر اپنی اصل ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی مشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر آئی اے ای اے کے منشور کے 29 جولائی 1957ء کو نافذ ہونے کی سالگرہ کے موقع پر جاری بیان میں کہا کہ یہ دن ادارے کے بنیادی اصولوں، مشن اور وژن کو یاد کرنے کا اہم موقع ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آئی اے ای اے کے منشور کی شق دوم کے مطابق ادارے کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں امن، صحت اور خوشحالی کے لیے جوہری توانائی کے پرامن استعمال کو فروغ دینا ہے۔
ایرانی مشن نے کہا کہ دنیا میں جوہری توانائی کی بڑھتی ہوئی ضرورت، خصوصا ترقی پذیر ممالک میں، اس امر کی متقاضی ہے کہ ایجنسی اپنی بنیادی ذمہ داریوں پر توجہ دے۔ تاہم ادارہ اپنی معمول کی بجٹ کا بڑا حصہ حفاظتی نگرانی کے شعبے پر خرچ کر رہا ہے، جس کے باعث تکنیکی تعاون کے پروگرام اضافی مالی معاونت کے محتاج ہو گئے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس رجحان نے آئی اے ای اے کو اس کے اصل مشن سے دور کر دیا ہے، جو باعث تشویش ہے۔
ایران نے زور دیا کہ اس صورتحال کا واحد حل یہی ہے کہ آئی اے ای اے اپنے منشور پر مکمل، متوازن، غیر جانبدار اور بلا امتیاز انداز میں عمل درآمد کرے، کیونکہ ادارے کی ساکھ کی بحالی اور اسے برقرار رکھنے کے لیے یہی راستہ ناگزیر ہے۔
آپ کا تبصرہ