19 جولائی، 2026، 9:47 PM

دشمن نے ہمیشہ کی طرح ایران کے بارے میں غلط اندازہ لگایا، عراقچی

دشمن نے ہمیشہ کی طرح ایران کے بارے میں غلط اندازہ لگایا، عراقچی

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ دشمن نے ایران کے بارے میں غلط اندازہ لگایا اور اس کی مزاحمت کا تصور نہیں کیا تھا، جبکہ حکومت نے اپنی سیاسی ساکھ یا مستقبل کے بجائے ہمیشہ قومی مفاد کو مقدم رکھا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ وہ اپنی سیاسی ساکھ یا مستقبل بچانے کے لیے فیصلے نہیں کرتے، بلکہ قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے بقول بعض لوگ اپنی ساکھ کی خاطر فیصلے کرتے ہیں، لیکن وہ اس طرز عمل کو خیانت سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری معاملے پر قومی سلامتی کی اعلی کونسل کے سیکریٹریٹ میں ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی، جو بعد میں مذاکراتی کمیٹی میں تبدیل ہوگئی۔ اس کمیٹی میں جوہری مذاکرات سے متعلق تمام امور زیر بحث آتے تھے اور اس کے فیصلے قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے طریقہ کار کے مطابق منظور کیے جاتے تھے۔

عراقچی نے کہا کہ 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کی جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچا تھا، تاہم انہیں یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ یورینیم افزودگی معطل کرنے کے دشمن کے مطالبے کو مسترد کیا جائے۔ اگر ایران یہ مطالبہ مان لیتا تو اس سے جنگ سے بھی زیادہ نقصان ہوتا کیونکہ اس سے ملک کی عزت مجروح ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایران جنگ کے ذریعے دشمن کے مطالبات تسلیم کر لیتا تو یہ مستقبل میں دشمن کے لیے ایک مثال بن جاتا، اس لیے اس مطالبے کو قبول نہیں کیا گیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اگرچہ 25 فروری کے مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچے تھے، تاہم ویانا میں فنی ٹیموں کی ملاقات پر آمادگی ظاہر کی گئی تھی، لیکن اسی دوران انہیں جنگی ماحول واضح طور پر محسوس ہونے لگا تھا۔

عراقچی نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کا خاتمہ تھا اور انہوں نے غلط تجزیے کی بنیاد پر امریکا کو ایران کے خلاف جنگ کی طرف دھکیلا۔ دشمن نے ابتدا میں غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا، لیکن آخرکار ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے تک پہنچا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے یورینیم افزودگی صفر کرنے کے غیر قانونی مطالبے کے سامنے مزاحمت کی، جس کے بعد دشمن جنگ کی طرف گیا۔ 12 روزہ جنگ کے بعد دشمن غلط اندازے کا شکار ہوگیا کیونکہ اسے ایران کی مزاحمت کی توقع نہیں تھی، اسی لیے اس نے بعد میں اپنی عسکری تیاریوں میں اضافہ کیا۔

عراقچی نے کہا کہ جنگ کا فیصلہ ایران نے نہیں بلکہ مخالف فریق نے کیا تھا، جبکہ ایران مسلسل کوشش کرتا رہا کہ معاملات کو جنگ کے بجائے کسی اور راستے پر لے جایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام صورتحال کی بنیاد ایران کو کمزور سمجھنے کے غلط تصور پر رکھی گئی تھی۔

News ID 1940369

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha