مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ دو سالوں کے دوران، غاصب صیہونی ڈاکٹروں نے مقبوضہ علاقوں سے ہجرت کی ہے۔
غاصب اسرائیل میں ماہر افرادی قوت کی ہجرت 2023ء میں شروع ہوئی اور 7 اکتوبر، یعنی غزہ جنگ کے باعث مزید تیز ہوئی۔
مقبوضہ علاقوں سے 45 سال سے زائد عمر کے ڈاکٹروں کی ہجرت خاص طور پر تشویش کا باعث ہے، کیونکہ وہ تجربہ کار ہونے کے ساتھ نئے ڈاکٹروں کی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، بعض شعبوں میں ہجرت کی شرح 6 فیصد سے زیادہ رہی، جبکہ تل ابیب میں ڈاکٹروں کی ہجرت 5.4 فیصد ریکارڈ ہوئی ہے۔
غاصب صیہونی وزارتِ خزانہ کے مطابق، آنے والے برسوں میں 24 فیصد ماہر ڈاکٹر ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ جائیں گے، جبکہ مزید 25 فیصد پہلے ہی اس عمر سے تجاوز کر چکے ہیں۔
2023 سے 2025 کے دوران 268,509 اسرائیلی کم از کم تین ماہ کے لیے مقبوضہ علاقوں سے باہر رہے۔
رپورٹ میں جنگ، مہنگائی، زندگی کے سنگین اخراجات اور سیاسی بحران کو ہجرت میں اضافے کی بڑی وجوہات قرار دیا گیا ہے۔
سروے کے مطابق، تقریباً 20 فیصد اسرائیلی گزشتہ دو برس میں ہجرت کے بارے میں سوچ چکے ہیں۔
تحقیق کے مطابق، آئندہ انتخابات کے بعد ڈاکٹروں اور ماہر افرادی قوت کی ہجرت مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
آپ کا تبصرہ