8 ستمبر، 2026، 2:43 PM

جتنی جلدی خطے سے نکل جائے امریکہ کے لیے بہتر ہے، ایرانی نائب اسپیکر

جتنی جلدی خطے سے نکل جائے امریکہ کے لیے بہتر ہے، ایرانی نائب اسپیکر

ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن مزید رسوائی سے بچنا چاہتا ہے تو جتنی جلدی ممکن ہو خطے سے جنگ ختم کرکے نکل جائے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر علی نیکزاد نے امریکہ کو خطے سے جلد از جلد نکل جانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن مزید اپنی رہی سہی ساکھ بھی برباد کرنے سے پہلے جنگ سے باہر نکل جائے۔

تفصیلات کے مطابق علی نیکزاد نے ایرانی پارلیمنٹ کے آن لائن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انقلاب اسلامی اور ایران کی جنگوں کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔

انہوں نے حالیہ دنوں میں صوبہ ہرمزگان کے شہر سیریک میں ایک شادی کی تقریب پر امریکی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کو کسی تکنیکی غلطی قرار دے کر اس کی ذمہ داری سے فرار اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ استعمال کیے گئے میزائل کی نوعیت اور مواصلاتی ٹاور اور شادی کی تقریب کے مقام کے درمیان فاصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک جنگی جرم تھا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بیدار ضمیر رکھنے والے لوگ آج واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ امریکہ اپنی جدید ٹیکنالوجی اور فوجی طاقت کے ذریعے ایک شادی کی تقریب کو ماتم میں تبدیل کر رہا ہے۔

ایرانی نائب اسپیکر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر اس حملے کو واقعی تکنیکی غلطی تسلیم کر لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ امریکہ کا کاغذی عقاب حقیقت میں صرف ایک کوّا ہے، کیونکہ خطے میں اس کے تمام حساس مراکز نشانہ بن چکے ہیں جبکہ اس کے انتہائی جدید میزائل 300 میٹر کے فرق سے شادی کی تقریب کو جا لگتے ہیں۔

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کی عظمت واپس لانے کے نعرے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب انہیں اس کے بجائے یہ سوچنا چاہیے کہ اپنی شرمناک شکستوں کو کیسے چھپایا جائے۔

نیکزاد نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس جنگ کو مکمل منصوبہ بندی اور مختلف فوجی حکمت عملیوں کے تحت آگے بڑھا رہا ہے اور بیک وقت اپنی تمام صلاحیتیں استعمال نہیں کر رہا۔

ان کے بقول امریکی جنگی بحری جہاز اور خطے میں امریکی کمان کے مراکز جس طرح نشانہ بنائے گئے، وہ ایرانی مسلح افواج کی مجموعی صلاحیت کا صرف ایک حصہ ہے۔

نیکزاد نے امریکی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنی رہی سہی عزت برباد کرنے سے پہلے جتنی جلدی ممکن ہو خطے سے نکل جائیں۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں امریکی کمانڈ مراکز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد امریکی اہلکاروں کو اپنے معمول کے مراکز چھوڑ کر ہوٹلوں میں پناہ لینا پڑی، جبکہ فوجیوں میں ذہنی دباؤ اور خودکشی کے واقعات کے باعث امریکی بحری جہازوں کو تھائی لینڈ کے ساحلوں پر لنگر انداز ہونا پڑا۔

News ID 1941219

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha