مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صوبہ خراسان رضوی میں ولی فقیہ کے نمائندے آیت اللہ سید احمد علم الہدیٰ نے کہا ہے کہ شہید رہبر آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای کے خون کا بدلہ اور انتقام پوری امت اسلامیہ کی ذمہ داری ہے۔
تفصیلات کے مطابق صوبہ خراسان رضوی کے مختلف اضلاع کے ادارہ تبلیغات اسلامی کے سربراہان سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حساس حالات میں، جب عوام کی توجہ ولایت کے مسئلے پر مرکوز ہے اور جنگی حالات کے باعث ان پر شدید دباؤ ہے، ضروری ہے کہ انقلاب کے اصولوں، مجاہدت، مزاحمت اور ولایت سے وابستگی کے موضوعات کو درست انداز میں بیان کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ آج سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ ان موضوعات کو کس انداز میں پیش کیا جائے، کیونکہ اجتماعات، نماز جمعہ کے خطبات اور دیگر تقاریر میں اکثر انقلاب اور سیاسی مسائل کو صرف سیاسی یا انقلابی تجزیے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے کہا کہ آج اگر ایک عالم دین کسی معاملے پر تجزیہ پیش کرتا ہے تو اس کے ساتھ ایک صحافی یا طالب علم بھی اپنی رائے پیش کرتا ہے، جو بعض اوقات الفاظ اور اندازِ بیان کے اعتبار سے عوام کے لیے زیادہ پرکشش محسوس ہوسکتی ہے، لیکن اس قسم کی قبولیت عارضی ہوتی ہے اور دیرپا وابستگی پیدا نہیں کرتی۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر انقلاب اور نظام سے متعلق مسائل کو دینی اور اعتقادی بنیادوں پر، قرآن و اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پیش کیا جائے تو عوام اسے زیادہ قبول کریں گے اور اسے ایک شرعی ذمہ داری کے طور پر اختیار کریں گے۔
خراسان رضوی کے ولی فقیہ نمائندے نے کہا کہ عوام کے ساتھ گفتگو کرتے وقت ہر بات کو دینی اور شرعی دلیل کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے، کیونکہ صرف دلیل دینا کافی نہیں بلکہ اسے مستند بھی ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ شہید رہبر کی تقاریر کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی اپنے مؤقف کے لیے قرآن کی آیات سے استناد کرتے تھے، حالانکہ ان کا کلام ہمارے لیے شرعی حجت کی حیثیت رکھتا تھا۔
آیت اللہ علم الہدی نے کہا کہ شہید رہبر کے خون کا بدلہ لینے کا مسئلہ صرف حکومتی معاملہ نہیں بلکہ یہ دین، قرآن اور اسلام سے متعلق مسئلہ ہے، اور اگر اس راستے میں کوئی اقدام کیا جاتا ہے تو وہ دینی اصولوں کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب رہبر انقلاب نے خونخواهی کا ذکر کیا تو وہ بھی دینی بنیادوں پر تھا اور فرمایا تھا کہ عوام آج سرخ پرچم بلند کر کے خون کا بدلہ لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتقام اور قصاص کے موضوع کو عوام کے سامنے پیش کرتے وقت اسے قرآنی اور دینی فریضے کے طور پر بیان کرنا چاہیے۔
آیت اللہ علم الہدی نے کہا کہ اگر کوئی امام یا رہبر شہید ہو جائے تو اس کا اس کے خون کا وارث پوری امت اسلامیہ ہے، اس لیے امت مسلمہ کو اپنے شہید رہبر کے خون کا بدلہ لینے کے لیے ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔ اسی وجہ سے رہبر انقلاب آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای نے خونخواهی کے مسئلے کو صرف شہید رہبر کے خاندان کے حق کے طور پر نہیں بلکہ امتِ اسلام کے حق کے طور پر بیان کیا۔
انہوں نے روایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زیارت عاشورا اور زیارت وارث میں بھی ’’ثاراللہ‘‘ کے تصور کے ذریعے انتقام کے مسئلے کو بیان کیا گیا ہے اور اسے مشروع و ضروری قرار دیا گیا ہے۔
آپ کا تبصرہ