مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ عروۃ الوثقیٰ لاہور کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید جواد نقوی سے ملاقات کے دوران آیت اللہ علم الہدیٰ نے پاکستان میں شیعہ مکتب کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ لاہور تشیع کا اہم مرکز ہے، جبکہ پاکستان کے شیعہ اہلِ بیتؑ کے مکتب کے دفاع میں ہمیشہ استقامت، اخلاص اور وفاداری کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں۔
انہوں نے رہبر شہید انقلاب کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک الٰہی فیصلہ ہے، جس کی حقیقت انسان کی سمجھ سے بالاتر ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کی مشیت کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیے۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے کہا کہ مجلس خبرگان کی جانب سے آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہای کے انتخاب کی اہم وجوہات میں ان کی عدالت، فقاہت، سیاسی بصیرت، انتظامی صلاحیت اور قیادت کی اہلیت شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہای سے زیادہ کوئی بھی رہبر شہید انقلاب کے قریب نہیں رہا۔ وہ ان کے سیاسی مشیر کی حیثیت سے اہم قومی اور تزویراتی فیصلوں سے مکمل آگاہی رکھتے تھے، جس کی بنا پر انہیں قیادت کے لیے موزوں شخصیت سمجھا جاتا ہے۔
آیت اللہ علم الہدیٰ کے مطابق، آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہای جنگی حالات میں فیصلہ سازی، مسلح افواج کی قیادت اور مختلف میدانوں کے نظم و نسق کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور عملی طور پر اپنی انتظامی اہلیت کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت بھی روایتی تنظیمی ڈھانچے پر انحصار کیے بغیر مختلف امور کی نگرانی کر رہے ہیں، جو ان کی انتظامی مہارت اور خصوصی مقام کی عکاسی کرتا ہے۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے کہا کہ رہبر شہید انقلاب کی تشییع کے موقع پر عراق سے عوام کی بڑی تعداد میں شرکت نے امریکہ کو سب سے زیادہ پریشان کیا، کیونکہ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ رہبر شہید صرف ایران ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کی ایک اہم قیادت کی حیثیت رکھتے تھے۔
ملاقات کے اختتام پر انہوں نے حجۃ الاسلام جواد نقوی کی پاکستان میں علمی، دینی اور تبلیغی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی کامیابی، امت مسلمہ کے اتحاد، معارفِ اہلِ بیتؑ کے فروغ اور اسلامی انقلاب کے اہداف کی خدمت کے لیے دعا کی۔
05:31 - 2026/07/17
آپ کا تبصرہ