14 جولائی، 2026، 11:38 AM

امریکی ارکان کانگریس کی ٹرمپ پر تنقید، جنگی اختیارات کے غلط استعمال کا الزام

امریکی ارکان کانگریس کی ٹرمپ پر تنقید، جنگی اختیارات کے غلط استعمال کا الزام

ڈیموکریٹ ارکان کانگریس نے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے اعلان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ آئین کو نظر انداز کرکے جنگی فیصلے کا اختیار اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹ ارکان نے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے اقدام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے ملکی آئینی اصولوں کو نظر انداز کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس مائیک لیون نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کو اطلاع دی ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی دوبارہ شروع ہوگئی ہے، تاہم وہ ساتھ ہی یہ دعوی بھی کر رہے ہیں کہ جنگ کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار صرف انہی کے پاس ہے۔

لیون کے مطابق کوئی بھی امریکی صدر جنگ کے معاملے میں مکمل اور خصوصی اختیار کا دعوی نہیں کرسکتا، کیونکہ یہ امریکی آئین کی روح کے خلاف ہے۔

انہوں نے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر اقدام کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ری پبلکن ارکان کو بھی ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر اس سوچ کا مقابلہ کرنا چاہیے کہ جنگ اور امن کا فیصلہ کسی ایک فرد کی مرضی سے کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب نیومیکسیکو سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن کانگریس ٹریسا لیگر فرنانڈیز نے کہا کہ ٹرمپ محض کاغذی طور پر جنگ ختم کرنے کا اعلان کرکے قانون کو نظر انداز نہیں کرسکتے اور پھر جب چاہیں اسے دوبارہ شروع نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہا کہ اب بہت ہوچکا، جھوٹ اور نہ ختم ہونے والی جنگوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

فرنانڈیز نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے اس سے قبل جنگ کے خاتمے کے حوالے سے غلط بیانی کی اور اب کانگریس کو بتایا ہے کہ جنگی صورتحال دوبارہ بحال ہوگئی ہے، جبکہ وہ کانگریس کی منظوری کے بغیر مزید 60 روز تک فوجی کارروائی جاری رکھنے کی مہلت چاہتے ہیں۔

News ID 1940289

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha