مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر نے قم کے دورے کے دوران حضرت فاطمہ معصومہؑ کے روضے پر حاضری کے بعد قم میں رہبر انقلاب کے نمائندے اور آستانۂ مقدس کے متولی آیت اللہ سید محمد سعیدی سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران صدر پزشکیان نے ملک کی تازہ ترین صورتحال، خصوصاً حالیہ جنگ کے دوران پیش آنے والے واقعات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور غاصب صہیونی حکومت کی جارحیت میں رہبر انقلاب، متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈرز، حکومتی عہدیدار، بے گناہ شہری اور طلبہ شہید ہوئے، تاہم ایرانی مسلح افواج، پاسداران انقلاب، فوج، بسیج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بے مثال جرات، عزم اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنایا۔
انہوں نے کہا کہ عوام کا شعوری تعاون، قومی یکجہتی اور سماجی اعتماد دشمن کی ناکامی کا سب سے بڑا سبب ثابت ہوا۔ دشمن نے عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ داخلی عدم استحکام، اقتصادی دباؤ، اشیائے ضروریہ کی فراہمی میں رکاوٹ اور عوامی بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کی، مگر عوام کی بیداری اور ریاستی اداروں کی مؤثر کارکردگی نے ان تمام منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ جنگی صورتحال کے دوران حکومت نے بھی مسلح افواج کے شانہ بشانہ تمام انتظامی اور خدماتی وسائل بروئے کار لاتے ہوئے عوامی خدمات کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھا۔ وفاقی وزرا، گورنرز، ضلعی حکام اور دیگر انتظامی افسران شب و روز عوام کی خدمت میں مصروف رہے تاکہ شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی سیاسی اور سفارتی پیش رفت میں اعلیٰ قیادت کی دانشمندانہ رہنمائی نے کلیدی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں مختلف شعبوں میں مثبت نتائج حاصل ہوئے، جن میں لبنان میں نسبتاً امن و استحکام اور بعض اقتصادی پیش رفت بھی شامل ہے۔
صدر پزشکیان نے خلیج فارس سمیت خطے میں کشیدگی پیدا کرنے کی بعض کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران ہمیشہ امن، استحکام اور مذاکرات کا حامی رہا ہے اور امید ہے کہ تمام فریق اپنے معاہدوں اور وعدوں کی پاسداری کریں گے تاکہ خطے میں دیرپا امن اور سلامتی کو فروغ مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ قم کے دورے کا مقصد حضرت فاطمہ معصومہؑ کے روضے کی زیارت کے ساتھ ساتھ مراجعِ کرام، علما اور حوزۂ علمیہ کے اساتذہ سے ملاقات بھی ہے۔ حکومت ملک کے انتظام و انصرام میں علما کی رہنمائی کو انتہائی اہم سمجھتی ہے۔
صدر پزشکیان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت عوام کی مخلصانہ خدمت جاری رکھتے ہوئے حالیہ جنگ کے شہدا کے خون کی پاسداری کرے گی، تاہم موجودہ حالات میں قومی اتحاد، ہوشیاری اور ہر ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری ناگزیر ہے۔
آپ کا تبصرہ