مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی رژیم کے وزیر جنگ یسرائیل کاتس نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج لبنان کے زیرِ قبضہ علاقوں سے حتی کہ امریکہ کے مطالبے پر بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔
المیادین کے مطابق کاتس نے دعوی کیا کہ صہیونی حکومت لبنان میں اپنے زیر کنٹرول علاقوں کو برقرار رکھے گی اور ان علاقوں کے تقریباً دو لاکھ سابق رہائشیوں کو بھی واپسی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب عبرانی ذرائع ابلاغ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج پر عائد پابندیوں کے باعث فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور غصے کی خبر دی ہے۔
عبری ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کے بعد اعلی حکام کی ہدایات پر اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں دریافت ہونے والے اہم انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے سے گریز کیا، حالانکہ اس کارروائی کی تمام تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ آخری لمحے میں سب کچھ روک دو کا حکم جاری کر دیا گیا۔
ادھر صہیونی ٹی وی چینل 12 نے رپورٹ کیا ہے کہ لبنان میں تعینات فوجیوں کے اہلِ خانہ نے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو، وزیر جنگ یسرائیل کاتس اور چیف آف اسٹاف ایال زامیر کو ایک خط لکھ کر اپنے بچوں کو درپیش مشکلات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ہمارے بچے لبنان میں بندھے ہاتھوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض بیرونی عوامل میدان عمل کے فیصلے کر رہے ہیں۔ ہم اپنے فوجیوں کو بیرونی مصلحتوں یا سیاسی قیادت کی بے حسی کی وجہ سے قربان ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔
آپ کا تبصرہ