27 مئی، 2026، 11:18 AM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

عرب امارات صہیونی منصوبوں کا مرکز کیوں بنتا جا رہا ہے؟

عرب امارات صہیونی منصوبوں کا مرکز کیوں بنتا جا رہا ہے؟

ابراہیمی معاہدے کے بعد واضح ہوا کہ امارات اور اسرائیل کے تعلقات صرف تجارت تک محدود نہیں بلکہ ابوظہبی اسرائیلی سکیورٹی اثر و نفوذ کا بھی مرکز بنتا جارہا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک؛ متحدہ عرب امارات نے برسوں تک خود کو خطے کی ایک مستحکم معیشت، جدید ریاست اور سرمایہ کاری کے محفوظ مرکز کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، مگر حالیہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے سکیورٹی اور انٹیلی جنس تعلقات نے اس تاثر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

سن 2020 میں “ابراہیم معاہدے” کے بعد ابتدا میں یہ کہا گیا کہ ابوظہبی اور تل ابیب کے تعلقات صرف اقتصادی، تجارتی اور سفارتی تعاون تک محدود رہیں گے، لیکن بعد کے واقعات نے واضح کیا کہ معاملہ محض تجارت یا سفارتکاری کا نہیں بلکہ خطے میں اسرائیلی سکیورٹی و انٹیلی جنس اثر و نفوذ کے پھیلاؤ کا ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ خلیج فارس میں امارات اسرائیلی منصوبوں کے لیے ایک اہم اڈے کی صورت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

خلیج فارس میں اسرائیلی انٹیلی جنس کا پھیلتا اثر

خلیج فارس تعاون کونسل کے دیگر ممالک کے مقابلے میں ابوظہبی نے جس سرعت اور گہرائی کے ساتھ اسرائیلی سکیورٹی اداروں کے ساتھ روابط قائم کیے، اس نے پورے خطے میں نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی داخلی خفیہ ادارے “شاباک” کے سربراہ کی خفیہ طور پر امارات آمد اور محمد دحلان سے ملاقات نے ان تعلقات کی نوعیت پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

محمد دحلان، جو کبھی فتح تحریک کے اہم رہنما اور غزہ میں سکیورٹی کے ذمہ دار تھے، آج فلسطینی عوام کے ایک بڑے طبقے میں متنازع شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی ابوظہبی میں موجودگی اور اسرائیلی حکام سے روابط سے یہ تاثر مضبوط ہورہا ہے کہ امارات فلسطینی سیاسی منظرنامے پر بھی اسرائیلی ایجنڈے کے مطابق کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

علاقائی ساکھ پر منفی اثرات

اسرائیل کے ساتھ گہرے سکیورٹی تعاون نے امارات کو عرب عوام کی تنقید کا مرکز بنا دیا ہے۔ عرب دنیا میں بڑی تعداد اب بھی اسرائیل کے ساتھ انٹیلی جنس اور عسکری تعاون کو فلسطینی کاز سے غداری تصور کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امارات کی پالیسیوں پر عرب سوشل میڈیا، سیاسی حلقوں اور عوامی مباحث میں شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

دوسری جانب خلیج فارس کے ممالک میں بھی یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ اسرائیلی سکیورٹی موجودگی خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جا سکتی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال نے عرب ممالک کے علاقائی اتحاد کے اندر اعتماد کے بحران کو بھی جنم دیا ہے۔

محمد دحلان اور فلسطینی سیاست

اسرائیل اور بعض علاقائی حلقے مستقبل میں فلسطینی سیاسی ڈھانچے میں محمد دحلان کے کردار کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اس منصوبے کا مقصد مغربی کنارے میں ایسی قیادت لانا ہے جو اسرائیلی سکیورٹی مفادات کے لیے زیادہ قابل قبول ہو۔

تاہم فلسطینی مزاحمتی حلقے اور عوامی رائے اس منصوبے کو مسترد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ غزہ اور مغربی کنارے کے حالیہ تجربات نے یہ ثابت کیا ہے کہ فلسطینی عوام بیرونی حمایت یافتہ سیاسی منصوبوں کو آسانی سے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

امارات نے یہ راستہ کیوں اختیار کیا؟

بعض مبصرین کے مطابق ابوظہبی کی موجودہ حکمت عملی کے پیچھے تین بڑے عوامل کارفرما ہیں:

الف۔ عرب دنیا میں جمہوری تحریکوں کا خوف

متحدہ عرب امارات عرب بہار کے بعد خطے میں ابھرنے والی جمہوری اور عوامی تحریکوں کو اپنی سیاسی بقا کے لیے خطرہ سمجھتا رہا ہے۔ ابوظہبی کی قیادت کا خیال ہے کہ اگر عرب ممالک میں عوامی دباؤ کے ذریعے سیاسی تبدیلیاں کامیاب ہوئیں تو اس کے اثرات خلیج فارس میں قائم بادشاہتوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے امارات نے ان قوتوں کے مقابلے کے لیے ایسے علاقائی اور بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے جو موجودہ سیاسی نظام کو برقرار رکھنے کے حامی ہیں، اور اسرائیل بھی انہی اتحادیوں میں شامل ہے۔

ب۔ اسلامی سیاسی تحریکوں کے اثر و رسوخ کا خدشہ

امارات خاص طور پر اخوان المسلمون اور دیگر اسلامی سیاسی جماعتوں کو اپنے لیے بڑا چیلنج تصور کرتا ہے۔ ابوظہبی کا ماننا ہے کہ مذہبی بنیادوں پر منظم سیاسی تحریکیں عوام میں مقبولیت حاصل کرکے خطے کے موجودہ حکمران نظاموں کو کمزور کر سکتی ہیں۔ اسی لیے امارات نے ان تحریکوں کے خلاف سخت پالیسی اختیار کی اور اسرائیل کے ساتھ انٹیلی جنس اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دیا، کیونکہ اسرائیل بھی سیاسی اسلام کی بعض تحریکوں کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

ج۔ خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرات

امارات خلیج فارس اور مشرق وسطی میں ایران کے بڑھتے ہوئے سیاسی، عسکری اور علاقائی اثر و رسوخ کو اپنی سلامتی کے لیے اہم چیلنج سمجھتا ہے۔ یمن، عراق، شام اور لبنان میں ایران کے کردار نے خطے کے عرب ممالک میں تشویش پیدا کی، جس کے بعد ابوظہبی نے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کو ایک اسٹریٹجک ضرورت کے طور پر دیکھا۔ امارات کا خیال ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعاون سے اسے جدید سکیورٹی ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس معلومات اور علاقائی سطح پر ایک مضبوط اتحادی حاصل ہو سکتا ہے۔ صہیونی حکومت نے بھی خود کو خلیج فارس کی حکومتوں کے لیے ایک سکیورٹی شراکت دار کے طور پر پیش کیا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ عرب امارات کو اس تعاون کی قیمت اپنی خودمختاری، علاقائی ساکھ اور داخلی سلامتی کی صورت میں ادا کرنا پڑسکتا ہے۔

حاصل سخن

عرب امارات اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے سکیورٹی تعلقات نے پورے خطے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا ابوظہبی واقعی ایک متوازن علاقائی کردار ادا کر رہا ہے، یا وہ بتدریج اسرائیلی سکیورٹی منصوبوں کا عملی مرکز بنتا جا رہا ہے۔

خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں یہ معاملہ صرف فلسطین یا اسرائیل تک محدود نہیں رہا، بلکہ اب خلیج فارس کی مجموعی سلامتی، سیاسی استحکام اور مستقبل کی علاقائی صف بندیوں سے جڑچکا ہے۔

News ID 1939445

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha