مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے سینتیسویں دن بعض بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے 45 روزہ جنگ بندی کی ایک تجویز سامنے آنے کی خبر دی ہے۔ امریکی ویب سائٹ آکسیوس سمیت چند میڈیا اداروں کے مطابق علاقائی ثالث اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ایک عارضی جنگ بندی کے ذریعے دو مرحلوں پر مشتمل ایسے معاہدے کی راہ ہموار کی جائے جو بالآخر مستقل طور پر جنگ کے خاتمے پر منتج ہو سکے۔
مغربی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک باخبر ذریعے نے بتایا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف نے پوری رات امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطہ رکھا۔ پاکستان کی ممکنہ ثالثی کے ذریعے اس تجویز کو کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کی طرف ایک قدم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ تاہم بعض مبصرین اس مجوزہ جنگ بندی کو نامکمل اور یکطرفہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس تجویز میں فریقین کے درمیان ذمہ داریوں کا توازن واضح طور پر نظر نہیں آتا۔ جہاں ایران کی ممکنہ ذمہ داریوں کا ذکر کیا گیا ہے، وہاں امریکی فریق کی جانب سے کسی واضح اور لازمی اقدامات کا تعین دکھائی نہیں دیتا۔ یہ طرزِ عمل امریکی پالیسی سازی میں پائی جانے والی اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس میں مذاکرات کو دو طرفہ عمل کے بجائے اپنے مطالبات مسلط کرنے کے ایک ذریعہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں معاہدہ برابری کی بنیاد پر نہیں بلکہ دباؤ اور شرائط کے تحت تشکیل پاتا ہے۔
دوسری جانب بعض حلقوں کے مطابق جنگی میدان کی صورتحال بھی ابتدائی اندازوں سے مختلف ثابت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ توقع کے برعکس ایران کا عملیاتی ڈھانچہ کمزور نہیں پڑا بلکہ کئی شعبوں میں اس نے توازن برقرار رکھا ہے اور بعض مقامات پر مخالف فریق پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق پالیسی ساز اداروں کے اندازوں اور میدان میں موجود حقیقت کے درمیان یہی فرق اس نوعیت کی تجاویز کو ابتدا ہی سے غیر مستحکم بنا دیتا ہے۔ ان کے مطابق جب ایک فریق خود کو برتر پوزیشن میں اور دوسرے فریق کو اپنی شرائط قبول کرنے پر مجبور سمجھتا ہے تو اس سوچ کے تحت ہونے والا کوئی بھی معاہدہ دیرپا اور متوازن ثابت نہیں ہوسکتا۔
عارضی جنگ بندی اور خطے کے تاریخی تجربات
اس معاملے کا ایک اور زیادہ اہم پہلو اس طرح کی جنگ بندیوں کے بارے میں تاریخی تجربہ ہے۔ ایران ہی نہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے عوام کی سیاسی اور سماجی یادداشت میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کو عموماً تنازع کے خاتمے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔ اسے زیادہ تر ایک ایسی درمیانی کیفیت سمجھا جاتا ہے جسے “نہ جنگ، نہ امن” کہا جا سکتا ہے۔ اس صورتحال میں مخالف فریق کو اپنے آپ کو دوبارہ منظم کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور وہ مناسب وقت پر دباؤ یا حتی کہ نئے حملوں کا سلسلہ شروع کرسکتا ہے۔ خطے میں بار بار پیش آنے والے واقعات نے اس طرز عمل کو ایک واضح نمونے کی شکل دے دی ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال غزہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ گزشتہ برسوں میں مختلف ممالک، خصوصاً امریکہ کی ثالثی سے کئی مرتبہ جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، لیکن اکثر یہ جنگ بندیاں درمیان میں ہی ٹوٹ گئیں یا پھر مخالف فریق نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ بہت سے مواقع پر یہ جنگ بندی دراصل صرف ایک وقفہ ثابت ہوئی جس کے دوران فوجی قوت کو دوبارہ منظم کیا گیا، رسد کے نظام کو مضبوط بنایا گیا اور اگلے مرحلے کی لڑائی کی تیاری کی گئی۔ ایسے حالات میں کسی عارضی جنگ بندی کی مؤثریت پر اعتماد کرنا، خصوصاً جب اس کے ساتھ کوئی واضح ضمانت موجود نہ ہو، بہت مشکل ہوجاتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک بنیادی نکتہ سامنے آتا ہے اور وہ ہے “ضمانت”۔ کوئی بھی جنگ بندی اسی وقت معنی رکھتی ہے جب اس کے پیچھے عملی اور قابلِ تصدیق ضمانتیں موجود ہوں۔ صرف کسی مفاہمتی یادداشت یا کمزور نوعیت کے معاہدے پر دستخط کر دینا حقیقی ضمانتوں کا متبادل نہیں بن سکتا۔ اسی تناظر میں اگر 45 روزہ عارضی جنگ بندی کو ایسے وقت میں قبول کیا جائے جب اس پر عملدرآمد کی کوئی واضح ضمانت موجود نہ ہو تو اسے ایک اسٹریٹجک غلطی بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسی جنگ بندی حاصل شدہ کامیابیوں کو مضبوط کرنے کے بجائے انہیں کمزور کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس وقفے کے دوران مخالف فریق آسانی سے اپنی فوجی طاقت کو دوبارہ بحال کرسکتا ہے، تباہ شدہ ڈھانچے کی مرمت کرسکتا ہے اور اپنی حکمت عملی پر ازسرِنو غور کر کے آئندہ اقدامات کی تیاری کرسکتا ہے۔
45 روزہ جنگ بندی کے ممکنہ علاقائی اثرات
45 روزہ جنگ بندی کے اس وقفے کے علاقائی پہلوؤں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایک ممکنہ منظرنامہ یہ ہے کہ امریکہ اس وقفے کو تنازع کے دائرے کو مزید وسیع کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرے۔ ماضی کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب واشنگٹن اکیلے اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا تو وہ اتحاد بنانے کی طرف جاتا ہے۔ اس تناظر میں جنگ بندی ایک ایسے موقع میں تبدیل ہوسکتی ہے جس کے ذریعے بعض عرب ممالک پر سیاسی اور سکیورٹی دباؤ ڈالا جائے تاکہ انہیں کسی نہ کسی شکل میں ایران کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی میں شامل کیا جاسکے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز کا مسئلہ بھی اس صورتحال میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ اہم سمندری راستہ علاقائی اور عالمی سطح پر ایران کے لیے دباؤ ڈالنے کا ایک بڑا تزویراتی ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی ایسا معاہدہ کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں اس آبنائے کو بغیر کسی متوازن رعایت اور جنگ کے مستقل خاتمے کی قابلِ اعتماد ضمانتوں کے دوبارہ کھول دیا جائے تو اس کا مطلب ایران کے ایک اہم تزویراتی فائدے کو کمزور کرنا ہوگا۔ ایسی صورتحال میں جنگ بندی مخالف فریق کے لیے ایک موقع بن سکتی ہے کہ وہ مختلف ذرائع، مثلاً سفارتی اور فوجی دباؤ کے ذریعے، اس آبنائے میں آمدورفت کے حالات کو اپنے حق میں تبدیل کرے اور وقت کے ساتھ ساتھ ایران کے اس اثر و رسوخ کو غیر مؤثر بنا دے۔
عارضی جنگ بندی، ایران کے لیے فائدہ یا حریف کے لیے موقع؟
ایک اور اہم نکتہ اس جنگ بندی کی مدت سے متعلق ہے۔ بظاہر 45 دن کا عرصہ شاید مختصر محسوس ہو، لیکن فوجی اور سکیورٹی نقطۂ نظر سے یہ مدت انتہائی اہم ثابت ہوسکتی ہے۔ اس دوران نہ صرف فوجی قوت کو دوبارہ منظم اور بحال کرنے کا موقع ملتا ہے بلکہ زیادہ پیچیدہ منصوبہ بندی اور نئے عملیاتی منصوبوں کی تیاری بھی ممکن ہوجاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ جنگ بندی مخالف فریق کے لیے ایک طرح کا عملیاتی وقفہ بن سکتی ہے، جبکہ اس کے بنیادی یا طویل مدتی مقاصد میں لازما کوئی تبدیلی نہ آئے۔
دوسری طرف سوال یہ ہے کہ ایسی صورتحال میں ایران کو کیا حاصل ہوگا؟ اگر اس کا نتیجہ صرف عارضی طور پر لڑائی میں کمی تک محدود رہے اور اس بات کی کوئی ضمانت موجود نہ ہو کہ حالات دوبارہ پہلے جیسے نہیں ہوں گے، تو اس سے کوئی واضح اور ٹھوس فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقفے کے نتیجے میں مخالف فریق پر دباؤ کم ہوجائے اور اس کے برعکس ایران پر سیاسی اور میڈیا کا دباؤ بڑھ جائے۔ کیونکہ جنگ بندی کے بعد کے ماحول میں ایران سے مزید رعایتیں دینے کی توقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
جنگ بندی کے فیصلے میں احتیاط اور واضح شرائط کی ضرورت
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ اصل مسئلہ مذاکرات یا جنگ بندی کی بنیادی مخالفت نہیں ہے، بلکہ بحث اس کی شرائط اور دائرہ کار پر ہے۔ ایسی جنگ بندی جس میں فریقین کی ذمہ داریوں میں توازن نہ ہو، عملی ضمانتیں موجود نہ ہوں، ماضی کے معاہدوں کی خلاف ورزیوں کا تجربہ سامنے ہو اور جس سے مخالف فریق کے فائدہ اٹھانے کے امکانات زیادہ ہوں، وہ ایران کے مفاد میں نہیں ہوسکتی۔ اس طرح کی تجویز بحران کے حل کے بجائے اسے زیادہ پیچیدہ شکل میں دوبارہ پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی لیے اس جنگ بندی کو قبول کرنے یا مسترد کرنے کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ماضی کے تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نوعیت کے معاملات میں جلد بازی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ فیصلہ کرتے وقت اپنی حکمت عملی اور اختیار کو برقرار رکھا جائے، زمینی حقائق کو سامنے رکھا جائے اور ایسے فریم ورک میں پھنسنے سے بچا جائے جو دوسروں نے تیار کیے ہوں۔ بصورتِ دیگر جو جنگ بندی آج ایک موقع کے طور پر پیش کی جارہی ہے، وہ کل ایک بڑے خطرے میں بھی تبدیل ہوسکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ