مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک؛ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ سے متعلق حالیہ تقریر نے جہاں بظاہر امریکی طاقت اور پیش رفت کا تاثر دینے کی کوشش کی، وہیں اس نے وائٹ ہاؤس کی حکمت عملی میں موجود ابہام اور ناکامی کو بھی نمایاں کر دیا۔ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں میدان جنگ کی ناکامیوں اور پالیسی کی کمزوریوں کو بلند و بانگ دعوؤں کے ذریعے چھپانے کی کوشش کی، تاہم زمینی حقائق ان دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اہم اسٹریٹجک اہداف تکمیل کے قریب ہیں اور مشکل مرحلہ ختم ہو چکا ہے، تاہم ایران کے جوہری یا میزائل پروگرام کو محدود کرنے کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی پیش نہیں کی۔ نہ ہی انہوں نے یورینیم افزودگی یا اس کی بحالی کو روکنے کے کسی عملی منصوبے کا ذکر کیا، جس سے ان کی پالیسی میں سنجیدہ منصوبہ بندی کے فقدان کا تاثر ملا۔
ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی حتمی تاریخ دینے سے بھی گریز کیا اور صرف یہ کہا کہ ہم جلد یہ کام مکمل کر لیں گے، تاہم اس مبہم بیان کو ناقدین غیر یقینی اور پالیسی کی کمزوری کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب ایران واضح کر چکا ہے کہ وہ صرف ٹھوس ضمانتوں کی صورت میں ہی جنگ کے خاتمے پر آمادہ ہوگا اور کسی عجلت میں مذاکرات قبول نہیں کرے گا۔
خطے کی صورتحال کے حوالے سے بھی ٹرمپ کے مؤقف کو کمزوری سے تعبیر کیا جا رہا ہے، خصوصاً جب انہوں نے آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کی ذمہ داری دیگر ممالک پر ڈالنے کی بات کی۔ ناقدین کے مطابق یہ موقف خطے میں امریکی اثر و رسوخ میں کمی اور ایران کو سفارتی برتری دینے کے مترادف ہے، جو اس اہم بحری راستے کے ذریعے اپنے سیاسی و اقتصادی اثرات بڑھا سکتا ہے۔
داخلی سطح پر بھی ٹرمپ نے معاشی دباؤ کو کم تر ظاہر کرنے کی کوشش کی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو عارضی قرار دیا، تاہم حقیقت میں توانائی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی امریکی پالیسیوں کی ناکامی کی عکاسی کر رہی ہے۔ انہوں نے عوامی دباؤ کم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس معاشی منصوبہ پیش نہیں کیا بلکہ جنگ کو امریکی بچوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری قرار دے کر اس کا جواز پیش کیا۔
فوجی محاذ پر ٹرمپ نے ایران کی میزائل صلاحیت کو کمزور ہونے کا دعویٰ کیا اور جوہری تنصیبات پر کنٹرول کی بات کی، تاہم مختلف تجزیوں کے مطابق ایران نے داخلی استحکام برقرار رکھتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ نے ایران کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مستحکم کیا ہے۔
مزید برآں، ٹرمپ نے اپنی تقریر میں اتحادی ممالک کا ذکر کرنے یا ان پر دباؤ ڈالنے سے گریز کیا، حالانکہ ماضی میں وہ ان پر جنگ میں ساتھ نہ دینے پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں امریکہ کا تنہا رہ جانا اس کی سفارتی تنہائی اور قیادت کے بحران کو ظاہر کرتا ہے۔
سفارتی محاذ پر بھی ٹرمپ کی تقریر میں کسی واضح حکمت عملی کا فقدان نظر آیا، کیونکہ انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کا کوئی ذکر نہیں کیا اور جنگ کے خاتمے کو صرف فوجی اہداف کے حصول سے مشروط قرار دیا، جو وائٹ ہاؤس کے سابقہ دعوؤں سے متصادم ہے۔
مجموعی طور پر مبصرین کے مطابق یہ تقریر کسی کامیابی کا نہیں بلکہ اسٹریٹجک الجھن، کمزوری اور پالیسی کی ناکامی کا عکس پیش کرتی ہے، جہاں امریکہ کو میدان جنگ، داخلی معیشت اور عالمی سفارتکاری تینوں محاذوں پر چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ ایران اپنی داخلی ہم آہنگی اور دفاعی و سفارتی صلاحیت کے باعث نسبتاً مضبوط پوزیشن میں دکھائی دیتا ہے۔
آپ کا تبصرہ