مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اعلی ایرانی دفاعی عہدیدار نے المیادین سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے میزائل حملوں کی شدت آئندہ دنوں میں تدریجی طور پر بڑھائی جائے گی اور یہ عمل ایک واضح مرحلہ وار حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔
عہدیدار کے مطابق ایران کی جانب سے میزائل حملوں میں اضافہ، اسی وقت ہوگا جب خطے میں مقاومتی بلاک کی کارروائیاں بڑھ چکی ہیں۔ ایران اور مزاحمتی قوتیں مشترکہ طور پر دشمن کے خلاف دباؤ کو بڑھا رہی ہیں اور آنے والے مراحل میں اس دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔
ایرانی عہدیدار نے ایران کے اہداف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تہران دشمن کے ریڈار سسٹمز اور فضائی دفاعی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے کسی بھی موقع کو ضائع نہیں کرے گا۔ دشمن کی متنوع عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا اور یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک مکمل ڈیٹرنس قائم نہ ہوجائے۔
انہوں نے ایران کی عسکری صلاحیتوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا دفاعی ذخیرہ نہایت جدید اور طاقتور ہے اور دشمن کو حیران کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، خصوصاً اس لیے کہ ایران نے 12 روزہ جنگ کے تجربات سے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔
اس ایرانی عہدیدار نے سخت لہجے میں خبردار کیا کہ اگر دشمن نے ایران کے بنیادی ڈھانچے یا اسٹریٹجک تنصیبات کے خلاف کوئی اقدام کیا تو اسے شدید اور غیر متوقع جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایران کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا مطلب یہ ہوگا کہ دشمن کو ایران کی جانب سے بھاری ضربیں برداشت کرنا پڑیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ طویل مدت تک اس محاذ آرائی کو جاری رکھ سکے، اور تہران ہر مرحلے پر طاقت کے ساتھ اور بغیر کسی تردد کے جواب دے گا۔
آپ کا تبصرہ