مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت، جو جنگ اور بحران کی عادی ہو چکی ہے، اس غیرقانونی جنگ کی ذمہ دار ہے جس نے نہ صرف خطے کو تباہی کی طرف دھکیلا بلکہ پوری دنیا پر بھاری اقتصادی بوجھ بھی ڈال دیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ کوئی بھی ایسا اقدام جو اس جنگ کو طول دے یا نئے محاذ کھولے، اسرائیل کی خونریز حکمت عملی کو تقویت دے گا اور ہمارے خطے کو مزید نقصان پہنچائے گا۔
اردوغان نے مزید کہا کہ اس جنگ میں بہنے والے خون کا ہر قطرہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کی سیاسی بقا کو طول دینے کا ذریعہ بن رہا ہے۔
واضح رہے ۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کرتے ہوئے رہبر معظم آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای، متعدد اعلیٰ فوجی عہدیداروں اور شہریوں کو شہید کر دیا تھا، جبکہ میناب کے ایک اسکول پر امریکی بمباری میں ۱۷۰ سے زائد کمسن طالبات بھی شہید ہوگئی تھیں۔
اس کے بعد ایران نے اپنے دفاع کے قانونی حق کے تحت مقبوضہ علاقوں اور خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا اور تل ابیب اور واشنگٹن سے وابستہ بحری جہازوں کی آبنائے ہرمز سے گزرنے پر پابندی عائد کر دی۔
اسی دوران عراق اور لبنان کی مزاحمتی تنظیموں نے بھی ایران کی حمایت میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے خلاف کارروائیاں کیں، جبکہ یمن کی مزاحمت نے بھی مناسب وقت پر اس محاذ میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔
مشرق وسطیٰ میں جاری اس جنگ اور آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت محدود ہونے کے باعث عالمی سطح پر توانائی کا بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
آپ کا تبصرہ