مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی۔صہیونی جارحیت کے جواب میں ایران نے مقبوضہ علاقوں پر میزائل حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے، جبکہ جنوبی ایران میں دشمن کے کئی ڈرون بھی مار گرائے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق صرف ایک گھنٹے کے دوران ایران سے تین مختلف مراحل میں میزائل مقبوضہ علاقوں کے مختلف اہداف کی جانب فائر کئے گئے، جس کے بعد لاکھوں صہیونی آبادکار خوف کے باعث پناہ گاہوں میں چلے گئے۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی ایران کے ساحلی علاقوں میں سپاہ پاسداران کی زمینی فورس کے بسیجی رضاکاروں نے دشمن کے 5 ہرمس ڈرون مار گرائے، جس کے بعد جنگ کے آغاز سے اب تک تباہ کیے گئے ڈرونز کی مجموعی تعداد 143 ہوگئی ہے۔
دوسری جانب کویت کے سب سے بڑے پانی اور بجلی کے منصوبے دوحہ ویسٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کویت کی تقریباً 90 فیصد پینے کے پانی کی فراہمی سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے پلانٹس پر منحصر ہے۔
اسی دوران سپاہ پاسداران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی مجموعی تعداد 86 حملوں تک پہنچ گئی ہے۔ یہ صورت حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پینٹاگون کی ابتدائی پیش گوئی کے برعکس، ایک ماہ کی جنگ کے بعد ایران کی حملہ آور صلاحیت کم نہیں ہوئی بلکہ حملے زیادہ منظم، زیادہ ہدفی اور پہلے سے زیادہ شدید ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز بدستور ایران کے عملی کنٹرول میں ہے اور مغربی ممالک کے بحری جہازوں کی آمد و رفت تقریباً صفر تک محدود ہوچکی ہے۔
علاقے میں حالیہ حملوں کے بعد امریکہ کے بیشتر فوجی اڈے بھی عملی طور پر غیر فعال ہوگئے ہیں، جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہے جس نے مغربی معیشتوں پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔
ان حالات میں امریکی کانگریس کے کئی سخت گیر جنگی حامی بھی اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ فوجی راستہ مؤثر ثابت نہیں ہو رہا اور جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی شرائط کو تسلیم کرنا ہی واحد قابل عمل راستہ ہو سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ