16 مارچ، 2026، 2:06 PM

ایران کی عسکری صلاحیتیں امریکا کے لیے تشویش کا باعث بن چکی ہیں، الجزیرہ کی رپورٹ

ایران کی عسکری صلاحیتیں امریکا کے لیے تشویش کا باعث بن چکی ہیں، الجزیرہ کی رپورٹ

الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ طویل امریکی پابندیوں کے باوجود ایران نے میزائل، آبدوزوں اور جنگی ٹیکنالوجی میں نمایاں ترقی کی ہے اور آج اس کے پاس مشرق وسطی کا سب سے بڑا میزائل ذخیرہ موجود ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں کہا ہے کہ کئی دہائیوں سے جاری امریکی پابندیوں کے باوجود ایران نے اپنی دفاعی صنعت کو مسلسل ترقی دی ہے اور اس کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتیں امریکا کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسلامی انقلاب سے قبل امریکا نے ایران کو 79 ایف‑14 جنگی طیارے فراہم کیے تھے۔ تاہم انقلاب اسلامی کے بعد امریکا کی جانب سے تکنیکی اور لاجسٹک مدد ختم ہونے کے باعث ان طیاروں کی دیکھ بھال ایران کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئی۔ الجزیرہ کے مطابق ایف‑14 کے TF30 انجن دراصل F‑111 بمبار طیاروں کے لیے تیار کیے گئے تھے اور شدید فضائی لڑائی کے ماحول میں ان کی کارکردگی غیر مستحکم رہتی تھی۔ اندازہ لگایا جاتا تھا کہ اس طیارے کے ایک گھنٹے کی پرواز کے لیے تقریباً 40 گھنٹے زمینی دیکھ بھال درکار ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے ان مشکلات کے باوجود 1982 میں جہاد خود کفالت پروگرام شروع کیا اور طیاروں کے سادہ پرزے ملک کے اندر تیار کرنا شروع کیے۔ اس اقدام کے نتیجے میں ایرانی فضائیہ اپنے ایف‑14 طیاروں کو فعال رکھنے میں کامیاب رہی۔ بعد ازاں جب ان طیاروں کے اصل "اے آئی ایم‑54 فینکس" میزائل ختم ہوگئے تو ایرانی انجینئروں نے ان کے متبادل کے طور پر مقامی میزائل "فکور‑90" تیار کیا اور اسے امریکی طیاروں کے فائر کنٹرول سسٹم کے ساتھ ہم آہنگ کر دیا۔

الجزیرہ کے مطابق امریکا کی موجودہ تشویش صرف ایران کے فعال جنگی طیاروں کی تعداد نہیں بلکہ وہ صنعتی اور تنظیمی صلاحیت ہے جس کے ذریعے ایران نے پابندیوں اور عالمی تنہائی کے باوجود اپنے طیاروں کو پرواز کے قابل رکھا۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے ایران‑عراق جنگ کے بعد اپنے صنعتی نظام کو مزید مضبوط کیا اور ریورس انجینئرنگ، بلیک مارکیٹ سے پرزہ جات کی فراہمی اور مقامی پیداوار کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو وسعت دی۔ میزائلوں کی ریورس انجینئرنگ اور مختلف اقسام کی تیاری نے ایران کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بنانے کی صلاحیت دی۔ ایران نے ہلکے مواد کے استعمال سے میزائلوں کی رینج میں بھی اضافہ کیا۔ 

رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس آج مشرق وسطی کا سب سے بڑا بیلسٹک میزائل ذخیرہ موجود ہے۔ 2022 میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل کینتھ میک کینزی نے کہا تھا کہ ایران کے پاس تین ہزار سے زیادہ بیلسٹک میزائل موجود ہیں، جبکہ اس تعداد میں زمین سے داغے جانے والے کروز میزائل شامل نہیں۔

الجزیرہ کے مطابق ایران کا میزائل پروگرام دراصل ایران‑عراق جنگ کے دوران شروع ہوا جب عراق کے اسکڈ میزائل حملوں کے مقابلے کے لیے ایران کو دفاعی صلاحیت کی ضرورت محسوس ہوئی۔ 1984 میں ایران نے روسی ساختہ اسکڈ میزائل لیبیا سے حاصل کیے اور بعد میں شمالی کوریا اور چین سے لانچر اور دیگر سازوسامان درآمد کیے۔ 1990 کی دہائی میں ایرانی انجینئروں نے اسکڈ ٹیکنالوجی کی ریورس انجینئرنگ کرکے شهاب‑1 اور شهاب‑2 میزائل تیار کیے۔

بعد ازاں ایران نے درآمدی ٹیکنالوجی سے آگے بڑھتے ہوئے ٹھوس ایندھن سے چلنے والے درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کیے جن میں "سجیل‑2" شامل ہے جس کی رینج تقریباً 2000 کلومیٹر ہے۔ اسی طرح "عماد" اور "خیبر شکن" جیسے زیادہ درست نشانہ لگانے والے میزائل بھی تیار کیے گئے۔ مائع ایندھن سے ٹھوس ایندھن کی طرف منتقلی میزائل ٹیکنالوجی میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جاتی ہے کیونکہ ٹھوس ایندھن والے میزائل تیزی سے داغے جاسکتے ہیں اور انہیں نشانہ بنانا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق ایران نے جون 2023 میں "فتاح" نامی مافوق الصوت میزائل کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ خود کو ہائپر سونک میزائل رکھنے والے ممالک کے کلب میں شامل قرار دیا۔ اس قسم کے میزائل تیار کرنا انتہائی پیچیدہ عمل ہے کیونکہ انہیں انتہائی زیادہ حرارت برداشت کرنے، فضائی استحکام برقرار رکھنے اور مؤثر وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ اس وجہ سے دنیا میں صرف چند ممالک ہی اس ٹیکنالوجی تک رسائی رکھتے ہیں جن میں روس، امریکا، چین اور ایران شامل ہیں۔

ایران کے مطابق "فتاح‑1" میزائل 13 سے 15 ماخ تک رفتار حاصل کرسکتا ہے اور اس کی رینج تقریباً 1400 کلومیٹر ہے۔ یہ میزائل ٹھوس ایندھن سے چلتا ہے اور دورانِ پرواز اپنی سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے اسے روکنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ میزائل جدید فضائی دفاعی نظاموں کو بھی چکمہ دے سکتا ہے۔

بعد ازاں ایران نے نومبر 2023 میں "فتاح‑2" نامی اس میزائل کا مزید جدید ورژن بھی متعارف کرایا جسے مکمل طور پر مقامی سطح پر تیار کیا گیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ایران کے میزائل ذخیرے کا عملی مظاہرہ اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران دیکھنے میں آیا جب ایران نے 12 دنوں میں 500 سے زیادہ بیلسٹک میزائل داغے۔

امریکی ادارے جِنسا (JINSA) کے تجزیے کے مطابق ایران کے داغے گئے 574 میزائلوں میں سے اسرائیل اور امریکا مشترکہ طور پر صرف 273 کو روک سکے، جبکہ 49 میزائل اسرائیل کے فوجی اڈوں اور دفاعی ڈھانچے کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق اس جنگ کے اختتام تک اسرائیل اور امریکا کے میزائل دفاعی ذخائر خطرناک حد تک کم ہوچکے تھے اور بعض ایرانی میزائل اسرائیل کے "ایرو‑3" دفاعی نظام کو بھی عبور کر گئے۔

الجزیرہ نے ایران کی بحری صلاحیتوں پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ ایران کے پاس اس وقت مشرق وسطیٰ کے بڑے اور متنوع آبدوز بیڑوں میں سے ایک موجود ہے جس کی تعداد تقریباً 28 سے 30 کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ اس میں روسی ساختہ "کیلو" آبدوزیں، مقامی طور پر تیار کردہ "فاتح" آبدوزیں اور چھوٹی "غدیر" آبدوزیں شامل ہیں۔

کیلو آبدوزیں بندرعباس کے قریب آبنائے ہرمز کے علاقے میں تعینات ہیں اور ہر آبدوز 18 ٹارپیڈو یا اینٹی شپ کروز میزائل لے جاسکتی ہے۔ ایران نے 2007 میں کم گہرے پانیوں میں کارروائی کے لیے "غدیر" نامی چھوٹی آبدوزیں متعارف کرائیں جن کا ڈیزائن شمالی کوریا کی یونو کلاس آبدوزوں کی ریورس انجینئرنگ پر مبنی ہے۔ ایران کے پاس اس وقت اس قسم کی 15 سے 23 آبدوزیں موجود ہیں۔

2019 میں ایران نے "فاتح" نامی درمیانے درجے کی مقامی آبدوز کو بحری بیڑے میں شامل کیا۔ 600 ٹن وزنی یہ آبدوز 48 میٹر لمبی ہے اور اس میں 533 ملی میٹر کے چار ٹارپیڈو ٹیوب موجود ہیں۔ یہ آبدوز 200 میٹر گہرائی تک جاسکتی ہے اور تقریباً پانچ ہفتے تک سمندر میں رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق ایران کی بحری حکمت عملی میں سمندری بارودی سرنگیں بھی انتہائی اہم کردار رکھتی ہیں۔ روسی ساختہ کیلو آبدوزیں ایک مشن میں 24 سے 36 بارودی سرنگیں بچھاسکتی ہیں جبکہ غدیر آبدوزیں کم گہرے پانیوں میں بھی یہ کام انجام دے سکتی ہیں۔ فاتح آبدوزیں بھی اپنے ٹارپیڈو کے ساتھ آٹھ بارودی سرنگیں لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

News ID 1938531

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha