مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے خطے میں ہونے والی تبدیلیوں، امریکہ اور صہیونی ریاست کی ایران پر جارحیت اور صہیونی ریاست پر حملوں کے دوبارہ شروع ہونے کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: صہیونی ریاست کی جانب سے رہبر انقلاب اسلامی کی شہادت اور مسلسل جارحیت و جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں مزاحمت نے حملے دوبارہ شروع کر دیئے۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ صہیونی ریاست پر حملوں کو دوبارہ شروع کرنے کی وجہ صہیونی ریاست کی مسلسل جارحیت اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ امریکی اور صہیونی ریاست کی جانب سے رہبر انقلاب اسلامی کی شہادت کا جرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ حزب اللہ نے سفارتی حل پر اتفاق کیا اور اسے لبنان کی حکومت کے لیے ایک موقع قرار دیا۔ تاہم، نتن یاہو نے "گریٹر اسرائیل" کا دعویٰ کیا اور امریکی سفیر نے بھی اس کی حمایت کی اور نیل سے فرات تک اسرائیل کی تشکیل کو ایک جائز حق قرار دیا۔
شیخ نعیم قاسم نے مزاحمت کو غیر مسلح کرنے لبنانی حکومت کے فیصلے کو ایک بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان فیصلوں سے لبنان کی حکومت کی حیثیت کمزور ہوئی اور صہیونی ریاست کے حملوں کو جواز ملا۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم پوری قدرت کے ساتھ اس خطرناک عمل کو روکیں۔
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے صہیونی ریاست کے جرائم کا جواب دینے کے لیے 15 ماہ کے دوران 500 افراد کی شہادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ اور لبنانی فوج کے اعدادوشمار کے مطابق 10 ہزار سے زیادہ مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور اس دوران کسی نے بھی لبنانی عوام کی مدد نہیں کی۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ سب کے لیے یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ جب تک صہیونی ریاست کا قبضہ رہے گا، مزاحمت اور اس کا ہتھیار ہر قانون کے تحت ایک جائز حق ہے۔ دشمن کا مقابلہ مناسب طریقے سے ہونا چاہیے۔ مزاحمت اور اس کے ہتھیار پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حزب اللہ اور مزاحمت صہیونی_امریکی جارحیت کا جواب دیتی ہے جو کہ ایک جائز حق ہے۔ دشمن کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور آپشن نہیں ہے اور ہم کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ ہم سید شہداء امت سید حسن نصراللہ رضوان اللہ تعالی علیہ کے فرزند ہیں ہیں اور ہم کبھی امانت میں خیانت نہیں کریں گے۔
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری لبنان کی حاکمیت اور شہریوں کا دفاع کرنا اور دشمن کی جارحیت کو روکنا ہے۔
شیخ قاسم نے کہا کہ ہم لبنانی حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے پابند رہے ہیں، لیکن صہیونی ریاست اس کے ایک بند پر بھی پابند نہیں رہی۔ ہم سفارتی راستے سے اتفاق کر چکے ہیں، لیکن گزشتہ 15 ماہ میں لبنان کے لیے کوئی نتیجہ اور کامیابی نہیں ملی ہے۔ ہم نے صہیونی ریاست کی مسلسل جارحیت کا جواب نہیں دیا تاکہ سفارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام نہ لگے۔ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ ہماری صبر کی بھی حد ہوتی ہے اور صہیونی ریاست نے اپنی تمام حدیں پار کر لی ہے۔
آپ کا تبصرہ