مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان آج ہونے والی بات چیت انتہائی سنجیدہ ماحول میں انجام پائی۔
تفصیلات کے مطابق، تہران میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تیسرے دور کی مذاکراتی نشست تقریباً تین گھنٹے جاری رہی جس میں عمان کے وزیر خارجہ اور عالمی جوہری نگران ادارے کے ڈائریکٹر جنرل بھی شریک تھے۔ دونوں وفود تقریباً ایک گھنٹہ قبل مذاکراتی مقام سے روانہ ہوئے کیونکہ دونوں فریقوں کو اپنے اپنے دارالحکومتوں سے مشاورت درکار تھی۔
بقائی نے واضح کیا کہ ایران کے لیے اصل اہمیت نتیجے کی ہے۔ ایران کا مذاکراتی رویہ شفاف اور مستقل مزاجی پر مبنی رہا ہے اور جو مؤقف پیش کیا گیا وہی عملی طور پر اپنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی حکام کی جانب سے متضاد بیانات ابہام کو برقرار رکھے ہوئے ہیں اور دوسری جانب ایسی ہم آہنگی دکھائی نہیں دی۔
ترجمان کے مطابق جوہری موضوعات اور پابندیوں کے خاتمے کے حوالے سے سنجیدہ اور اہم تجاویز پیش کی گئیں اور دونوں وفود نے مباحث کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ مراحل میں بھی بات چیت جوہری معاملات اور پابندیوں کے عملی اور قابلِ نفاذ حل کی سمت جاری رہے گی۔
آپ کا تبصرہ