مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمن کے جنوبی شہر عدن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے، جس کے بعد سعودی حمایت یافتہ عناصر کو شہر کے مختلف داخلی راستوں پر تعیینات کردیا گیا۔
یمنی ذرائع کے مطابق سعودی حمایت یافتہ خود ساختہ حکومت سے وابستہ مسلح افراد نے اماراتی حمایت یافتہ عناصر کے ساتھ شدید جھڑپوں کے بعد عدن کے اہم مقامات پر اپنی پوزیشن مضبوط کرلی ہے۔
چند روز قبل امارات کے حمایت یافتہ عناصر نے نئی خود ساختہ یمنی حکومت کے صدر شائع الزندانی کے دفتر اور سرکاری عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان حالات کشیدہ ہوگئے۔
سعودی حمایت یافتہ فورسز، جنہیں "سپرِ وطن" کہا جاتا ہے، عدن کے علاقوں خور مکسر اور کریتر میں بھی تعینات کی گئی ہیں جبکہ صوبہ لحج کے علاقے الوہط میں بھی ان کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔
جمعرات کو ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور بیس دیگر زخمی ہوئے تھے۔ اس سے قبل سعودی عرب کی فورسز صوبہ شبوا کے مرکزی شہر عتق میں بھی داخل ہوچکی ہیں۔
مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت جنوبی یمن میں اثر و رسوخ کے لیے جاری کشمکش کا حصہ ہے، جہاں متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ گروہ بھی متحرک ہیں۔
آپ کا تبصرہ