16 فروری، 2026، 10:25 AM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ؛

ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات، گیند اب امریکا کے کورٹ میں

ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات، گیند اب امریکا کے کورٹ میں

جنیوا میں ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات ایک بار پھر شروع ہو رہے ہیں، لیکن اس بار بنیادی سوال یہ نہیں کہ کیا کوئی معاہدہ ممکن ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا واشنگٹن اعتماد کی بحالی کے لیے درکار سیاسی عزم کا مظاہرہ کرے گا یا نہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: جنیوا میں ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات ایک بار پھر شروع ہو رہے ہیں، تاہم اس مرتبہ اصل سوال یہ نہیں کہ آیا دونوں ممالک کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا واشنگٹن اعتماد کی بحالی اور ایک پائیدار سمجھوتے کے لیے درکار سیاسی عزم کا عملی مظاہرہ کرے گا۔

منگل کے روز جنیوا ایک نہایت حساس سفارتی پیش رفت کا مرکز ہوگا۔ ماضی میں بھی یہ شہر اہم عالمی مذاکرات کی میزبانی کر چکا ہے، لیکن اس بار حالات کئی حوالوں سے مختلف ہیں۔ 2015 میں طویل اور پیچیدہ بات چیت کے بعد طے پانے والا مشترکہ جامع لائحۂ عمل (جے سی پی او اے) 2018 میں امریکا کی یکطرفہ علیحدگی کے بعد عملاً غیر مؤثر ہو گیا، جس کے نتیجے میں اعتماد سازی کا عمل شدید متاثر ہوا اور فریقین کے درمیان بداعتمادی میں اضافہ ہوا۔

آج بنیادی مسئلہ یہ نہیں کہ مفاہمت ممکن ہے یا نہیں، کیونکہ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ یہ ممکن ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک دیرپا اور قابلِ عمل معاہدے کے لیے ضروری سیاسی فیصلہ موجود ہے۔ قانونی اور سیاسی اعتبار سے سابقہ معاہدے سے علیحدگی امریکا نے اختیار کی تھی، جبکہ ایران نے ایک مدت تک اپنی ذمہ داریاں برقرار رکھیں اور صرف اس وقت تدارکی اقدامات کیے جب اسے معاہدے کے اقتصادی فوائد سے محروم کر دیا گیا۔

موجودہ حالات میں عملی قدم واشنگٹن کو اٹھانا ہوگا۔ اگر امریکا واقعی جوہری تنازع کے حل کا خواہاں ہے تو اب وقت ہے کہ وہ اپنے مؤقف کو عملی اقدامات سے ثابت کرے۔

ایران متعدد بار واضح کر چکا ہے کہ اگر مذاکرات کو صرف جوہری مسئلے تک محدود رکھا جائے اور ملک کی خودمختاری، وقار اور قومی مفادات کا احترام کیا جائے تو وہ بات چیت اور ضروری ضمانتیں فراہم کرنے پر بھی آمادہ ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ جوہری ہتھیار اس کے دفاعی نظریے کا حصہ نہیں اور اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ اسی بنیاد پر ایران تکنیکی تحفظات یا سیاسی خدشات کے حوالے سے شفاف فریم ورک کے تحت نگرانی کے متفقہ طریقۂ کار پر گفتگو کے لیے تیار ہے۔

ایران کے لیے مسئلہ مذاکرات کا اصول نہیں بلکہ اس کا دائرہ کار، توازن اور نتیجہ ہے۔ گزشتہ برسوں میں امریکا اور اس کے بعض اتحادیوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی جانب بڑھ سکتا ہے، حالانکہ ایران نہ صرف اس الزام کو مسترد کرتا رہا ہے بلکہ اپنے پروگرام کی پُرامن نوعیت ثابت کرنے کے لیے اضافی یقین دہانیاں دینے کی آمادگی بھی ظاہر کر چکا ہے۔ اگر واشنگٹن کی اصل تشویش جوہری عدم پھیلاؤ ہے تو اس کا راستہ واضح ہے: ایک شفاف، قابلِ تصدیق اور متوازن معاہدے کی طرف واپسی، جس میں دونوں فریق بیک وقت اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔

تاہم ایک سنجیدہ خدشہ یہ بھی ہے کہ مذاکرات کو غیر ضروری طور پر طول دیا جائے یا اس میں غیر جوہری موضوعات شامل کر دیے جائیں۔ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ جب علاقائی معاملات یا ایران کی دفاعی صلاحیتوں جیسے موضوعات کو ایجنڈے میں شامل کیا گیا تو بات چیت پیچیدہ اور کم نتیجہ خیز ہو گئی۔ کسی مخصوص فائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ توجہ اسی فائل تک محدود رہے۔ مطالبات کا مسلسل پھیلاؤ اعتماد میں کمی اور تعطل کا باعث بن سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک متوازن معاہدہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہو سکتا ہے۔ ایران کے لیے پابندیوں کا خاتمہ اور عالمی تجارتی و مالیاتی نظام میں مکمل واپسی اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور اندرونی استحکام کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ دوسری جانب امریکا کے لیے خطے میں کشیدگی میں کمی سکیورٹی اخراجات میں کمی، دیگر خارجہ پالیسی ترجیحات پر توجہ اور توانائی کی عالمی منڈیوں میں استحکام کا سبب بن سکتی ہے۔ ایران کے جوہری مسئلے میں پیش رفت عالمی تیل و گیس کی منڈی پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے اور قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ سے بچاؤ ممکن ہو سکتا ہے، جو عالمی معیشت اور امریکی صارفین دونوں کے لیے اہم ہے۔

اس تناظر میں تیسرے فریق کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیل گزشتہ برسوں سے ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی معاہدے کی مخالفت کرتا رہا ہے اور اپنی تشویش کو واشنگٹن کے ساتھ مشترک مفاد کے طور پر پیش کرتا ہے۔ تاہم یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ اسرائیل کے مفادات ہر صورت امریکا کی طویل المدتی حکمتِ عملی سے مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں ہوتے۔ تل ابیب کے لیے ایران کے ساتھ کشیدگی داخلی ہم آہنگی اور سکیورٹی پالیسیوں کے جواز کا ذریعہ بن سکتی ہے، جبکہ امریکا کے لیے کشیدگی میں کمی براہِ راست اور بالواسطہ اخراجات میں کمی کا باعث ہو سکتی ہے۔

اگر جنیوا مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانا ہے تو امریکا کو دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا: یا تو وہ صرف جوہری مسئلے تک محدود، متوازن اور قابلِ عمل معاہدے پر توجہ دے، یا پھر نئے مطالبات شامل کر کے مذاکرات کو عملی طور پر تعطل کی طرف لے جائے۔ ماضی نے ثابت کیا ہے کہ بڑے سفارتی معاہدے تکنیکی باریکیوں سے زیادہ اعلیٰ سطح کے سیاسی فیصلوں کے متقاضی ہوتے ہیں۔ اگر واشنگٹن میں سنجیدہ سیاسی عزم موجود ہے تو ضروری قانونی اور تکنیکی فریم ورک تیار کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر مقصد صرف بحران کو سنبھالے رکھنا ہے، حل کرنا نہیں، تو مذاکرات طویل اور تھکا دینے والے ثابت ہوں گے۔

ایران واضح کر چکا ہے کہ وہ جوہری مسئلے پر بات چیت اور غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے تیار ہے اور امریکا کی ظاہر کردہ تشویش کے ازالے کے لیے ضمانتیں دینے پر بھی آمادہ ہے۔ تاہم تہران اس بات کو قبول نہیں کرے گا کہ مذاکرات کو اضافی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جائے یا معاہدے کے دائرے سے باہر کے موضوعات مسلط کیے جائیں۔ قومی وقار اور مفادات ایسی سرخ لکیریں ہیں جن کا احترام کسی بھی سمجھوتے میں لازم ہوگا۔

جنیوا میں ہونے والے یہ مذاکرات دراصل نیتوں کا امتحان ہیں۔ اگر امریکا واقعی اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک متوازن معاہدہ دونوں ممالک اور خطے کے استحکام کے لیے مفید ہے تو راستہ واضح ہے: جوہری مسئلے پر توجہ، پابندیوں کا عملی خاتمہ، باہمی ضمانتوں کی فراہمی اور غیر ضروری مطالبات سے گریز۔ بصورتِ دیگر بداعتمادی کا سلسلہ برقرار رہے گا۔

بالآخر اس معاملے کا مستقبل کسی تحریری معاہدے کے متن سے زیادہ فریقین کے سیاسی عزم پر منحصر ہے۔ ایران اپنی آمادگی ظاہر کر چکا ہے، اب باری امریکا کی ہے کہ وہ ثابت کرے آیا وہ ایک حقیقی اور پائیدار معاہدے کا خواہاں ہے یا محض وعدوں اور دباؤ کے ایک اور دور کا۔ جنیوا ایک نئے باب کا آغاز بن سکتا ہے، بشرطیکہ واشنگٹن میں فیصلہ طویل المدتی مفادات کو مدنظر رکھ کر کیا جائے۔

News ID 1938087

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha