مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی مسلح افواج کا مشترکہ جنگی و عملیاتی کمانڈ ہیڈکوارٹر، خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے حالیہ امریکی اور صہیونی فوجی حکام کے دھمکی آمیز بیانات اور میڈیا میں بنائی جانے والی فضا کے ردعمل میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج دشمنوں کی سرگرمیوں کو صرف عملی مرحلے میں نہیں دیکھتیں بلکہ قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی خطرے کی تشکیل اور اس کی ابتدائی علامات کو نہایت باریک بینی سے زیر نظر رکھتی ہیں، اور میدانی جائزوں کی بنیاد پر مناسب وقت پر موزوں فیصلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف نام نہاد محدود، تیز اور صاف فوجی کارروائی کے تصور کا تعلق غلط اندازوں اور اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی اور جارحانہ صلاحیتوں کے بارے میں ناقص فہم سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حیران کن حملے یا تصادم کے دائرے کو قابو میں رکھنے پر مبنی کوئی بھی منظرنامہ ابتدا ہی میں اپنے منصوبہ سازوں کے کنٹرول سے باہر ہو جائے گا۔
اس اعلیٰ فوجی عہدیدار نے خطے میں امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں اور فوجی سازوسامان کی موجودگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے اردگرد سمندری ماحول ایک مقامی، مکمل طور پر شناختہ شدہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس فضا میں بیرونی طاقتوں کی افواج اور سازوسامان کا ارتکاز نہ فقط ان کی طاقت محسوب ہوگی بلکہ اس سے ان کی کمزوری میں اضافہ ہوگا اور وہ آسان اہداف میں تبدیل ہو جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے گزشتہ برسوں میں اپنی مقامی بحری صلاحیتوں، غیر متوازن دفاعی حکمت عملی اور منفرد جغرافیائی و سیاسی خصوصیات پر انحصار کرتے ہوئے خلیج فارس اور بحیرۂ عمان میں عسکری توازن کو اس انداز میں تبدیل کیا ہے کہ کوئی بھی جارح طاقت اپنی افواج اور اڈوں کی سلامتی کو یقینی نہیں سمجھ سکتی۔
اس عسکری عہدیدار نے ایران کے داخلی حالات اور سیاسی نظام سے متعلق بعض مداخلت پسندانہ بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زور دیا کہ ماضی کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اندرونی معاملات پر اثر انداز ہونے یا اس کے سیاسی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش، چاہے وہ سیاسی و معاشی دباؤ کے ذریعے ہو یا فوجی دھمکیوں اور نفسیاتی جنگ کے راستے، ہمیشہ ناکام رہی ہے اور آئندہ بھی اس غلط راستے سے منصوبہ سازوں کو کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوگا۔
انہوں نے آخر میں خبردار کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی جنگ کا آغاز نہیں کرے گا، تاہم وہ قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی خطرے کو، حتیٰ کہ اس کے ابتدائی مرحلے میں بھی، عملی شکل اختیار کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ناخواسته نتیجے کی مکمل ذمہ داری براہِ راست ان فریقوں پر عائد ہوگی جو اشتعال انگیز اور مداخلت پسندانہ موجودگی کے ذریعے یا براہ راست اور بالواسطہ حمایت فراہم کر کے پورے خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ