مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ نے گروپ 7 کے اس بیان کو شدید مذمت کرتے ہوئے مسترد اور اس کو دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گروپ 7 نے امریکہ اور صہیونی حکومت کے موقف سے متاثر ہوکر ایران میں ہونے والے واقعات کو نظر انداز کیا ہے جن میں پرامن مظاہروں کو بیرونی اشاروں پر پرتشدد رخ دیا گیا اور نہتے عوام اور سیکورٹی فورسز پر حملوں کے ساتھ ساتھ املاک کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ اور صہیونی حکومت کے موجودہ اور سابق عہدیداروں کے بیانات اور دیگر شواہد سے واضح ہوتا ہے فسادات اور ہنگاموں میں ان دونوں کے ہاتھ تھے۔ ایران اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت اور دفاع کے ساتھ شرپسندوں اور بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ساتھ نمٹنے کے عزم پر باقی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ گروپ 7 مغربی ایشیاء سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی اختیار کرتے ہیں اور صہیونی حکومت کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی پر زبان بند رکھنے کی وجہ سے گروپ کی اہمیت ختم ہوگئی ہے۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران پر جارحیت کے دوران امریکہ اور صہیونی حکومت کے حملوں میں ہزاروں ایرانی شہری شہید ہوگئے لیکن گروپ کے رکن ممالک نے مذمت تک کرنے کا گوارا نہیں کیا۔ گروپ 7 کو موجودہ حالات میں ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔
آپ کا تبصرہ