مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شام میں دروزی فرقے کے سربراہ شیخ حکمت الہجری نے صہیونی حکومت سے اظہار تشکر اور تل ابیب کے ماتحت شامل ہونے پر آمادگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شام تیزی سے تقسیم کی جانب بڑھ رہا ہے جوکہ ان کی نظر میں خوش آئند ہے۔
صہیونی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شام کی تقسیم کے بعد خودمختار اور آزاد علاقے تشکیل پائیں گے۔ یہی شام کی سرنوشت ہے جوکہ شام میں بسنے والے اقلیتوں اور پورے مشرق وسطی کے استحکام کے لئے بہتر ہے۔
الہجری نے کہا کہ احمد الشرع المعروف الجولانی کی قیادت میں شام میں دروزی سمیت تمام اقلیتوں کو تباہ کیا جائے گا۔ یہ داعش اور القاعدہ کا تسلسل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دمشق پر حاکم جماعت کے ساتھ ان کا کوئی رابطہ نہیں ہے کیونکہ وہ اسی القاعدہ ہم فکر ہیں جو دروزیوں کے ساتھ اتحاد کی قائل نہیں۔ علویوں سمیت شام میں موجود ہر اقلیتی برادری تشدد کا شکار ہے۔
آپ کا تبصرہ