مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ نے ایران کے داخلی حالات پر امریکی حکام کے مداخلت پسندانہ اور فریب کارانہ بیانات کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیانات ایرانی عوام سے ہمدردی کے بجائے واشنگٹن کی دیرینہ دشمنی اور زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کا تسلسل ہیں۔
وزارت خارجہ کے مطابق امریکہ ایران کے خلاف صرف اقتصادی پابندیاں ہی عائد نہیں کر رہا بلکہ نفسیاتی جنگ، میڈیا پروپیگنڈا، جھوٹی خبروں کی تشہیر، فوجی مداخلت کی دھمکیاں اور تشدد و دہشت گردی کو ہوا دینے جیسے ہتھکنڈے بھی استعمال کر رہا ہے، جو اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران آئینی اصولوں کے تحت پُرامن احتجاج کو تسلیم کرتی ہے اور عوام کے جائز مطالبات کے حل کے لیے قانونی دائرے میں ہر ممکن اقدام کرے گی، تاہم ایران کو درپیش زیادہ تر معاشی مشکلات امریکہ کی جانب سے مسلط کی گئی ظالمانہ اور غیر قانونی پابندیوں کا نتیجہ ہیں۔
وزارت خارجہ نے امریکہ کی طویل دشمنی کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے 1953 کی بغاوت، آٹھ سالہ جنگ میں صدامی رژیم کی حمایت، حالیہ صہیونی حملوں میں شراکت اور مسلسل پابندیوں کو ایرانی قوم کے خلاف دشمنی کی واضح مثالیں قرار دیا۔
ایران نے عالمی اداروں، بالخصوص اقوام متحدہ، سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاستوں کی خودمختاری کے احترام کو یقینی بنائیں اور آزاد ممالک کے اندرونی معاملات میں تباہ کن مداخلت کو روکیں۔
آخر میں زور دیا گیا کہ ایرانی قوم نے اپنی تاریخ میں بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ بیداری، قومی یکجہتی اور اپنے ایرانی اسلامی تشخص پر اعتماد کے ذریعے بیرونی مداخلتوں کا مقابلہ کرتی رہے گی اور امریکہ کی فریب کارانہ پالیسیوں کو ایران کی خودمختاری، آزادی اور قومی وقار کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گی۔
آپ کا تبصرہ