6 جنوری، 2026، 12:08 PM

وینزویلا، اقتدار سے محرومی کے بعد ماچادو خوشامد پر اتر آئی، ٹرمپ کو نوبل انعام کی پیشکش

وینزویلا، اقتدار سے محرومی کے بعد ماچادو خوشامد پر اتر آئی، ٹرمپ کو نوبل انعام کی پیشکش

وینزویلا کی حکومت مخالف رہنما ماریا کورینا ماچادو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو صلح پسند قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا نوبل امن انعام امریکی صدر کو دینے کے لیے تیار ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وینزویلا کی حکومت مخالف اور متنازع رہنما ماریا کورینا ماچادو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک بار پھر خوشامد کرتے ہوئے اپنا نوبل امن انعام انہیں دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ماچادو نے امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ کو صلح پسند اور انصاف کا علمبردار قرار دیا اور کہا کہ وہ ابتدا ہی میں اپنا نوبل امن انعام ٹرمپ کے نام کرنا چاہتی تھیں، کیونکہ ان کے نزدیک وہ اس اعزاز کے مستحق ہیں۔ اب تک موقع نہیں ملا، لیکن وہ اب بھی یہ انعام ٹرمپ کو پیش کرنا چاہتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے اغوا سے قبل ماریا کورینا ماچادو کو کاراکاس میں اقتدار سنبھالنے کے لیے ایک اہم امیدوار سمجھا جا رہا تھا، تاہم بعد ازاں انہیں خود ٹرمپ کی جانب سے نظرانداز کردیا گیا۔

مبصرین کے مطابق اس سردمہری کی ایک بڑی وجہ وہ نوبل امن انعام ہے جسے ٹرمپ اپنے لیے حاصل کرنا چاہتے تھے۔

اس سے قبل واشنگٹن پوسٹ نے لکھا تھا کہ امریکی صدر ماچادو کی حمایت اس لیے نہیں کرنا چاہتے کیونکہ انہوں نے اپنا نوبل امن انعام ٹرمپ کو پیش نہیں کیا۔ اسی تناظر میں ٹرمپ نے حال ہی میں وینزویلا کی مغرب نواز سیاسی جماعتوں کو تحقیر کا نشانہ بناتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ ماچادو کا صدر بننا مشکل ہے کیونکہ انہیں عوامی سطح پر خاطر خواہ حمایت حاصل نہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ماچادو کے حالیہ بیانات وینزویلا کی داخلی سیاست کے ساتھ ساتھ امریکی اثر و رسوخ کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں اقتدار کی سیاست میں خوشامد اور ذاتی مفادات نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔

News ID 1937559

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha