مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے ایک بار پھر بیان دیا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ اگر ایران میں پرامن مظاہرین پر فائر کیا گیا یا انہیں قتل کیا گیا تو امریکہ فورا ان کی حمایت کے لیے مداخلت کرے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ بیان کسی وقتی موقف کا اظہار نہیں بلکہ امریکہ کی جانب سے ایران میں مداخلت کی کوششوں کا تسلسل ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان دراصل عوام کی حمایت یا حقوق انسانی کے بہانے سیاسی دباؤ ڈالنے کا ایک طریقہ ہے۔ تاریخ معاصر میں عراق، افغانستان، لیبیا اور شام میں امریکہ نے عوام کی حمایت کے بہانے مداخلت کی، جس کے نتیجے میں استحکام ختم ہوا، انسانی جانوں کا نقصان ہوا اور یہ ممالک بحران کا شکار ہوئے۔
امریکہ اکثر اپنے سیاسی مفادات کے لیے بین الاقوامی اصولوں کو نظرانداز کرتا رہا ہے۔ ٹرمپ کے بیانات میں استعمال ہونے والے الفاظ جیسے "اقدامات کے لئے تیاری" اور "حتمی ردعمل" دراصل ایک خودمختار ملک کو دھمکانے کے مترادف ہیں، اور یہ اقوام متحدہ کے منشور کے خلاف ہیں، جس میں کسی ملک کی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال پر پابندی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی یہ مداخلتی پالیسی نہ صرف ایران بلکہ دیگر ممالک میں بھی عوام اور حکومت کے درمیان خلیج پیدا کرنے کا سبب بنی ہے۔ یوں عوام کی حمایت کے نعروں کی اصل حقیقت سامنے آئی ہے۔
انسانی حقوق کی سیاست اور مگرمچھ کے آنسو
ڈونلڈ ٹرمپ اپنے بیان میں اس نکتے اور تاریخی حقیقت سے غفلت برت رہے ہیں کہ خود امریکہ ایران کے عوام پر اقتصادی، سیاسی اور معاشی دباؤ کا سب سے بڑا سبب ہے۔ واشنگٹن کی یکطرفہ اور وسیع پیمانے پر عائد کردہ پابندیاں صرف سیاسی یا عسکری شعبوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ معیشت، تجارت، بینکنگ سسٹم اور حتی کہ دواؤں اور طبی آلات تک کی رسائی کو متاثر کر رہی ہیں۔ ایسے حالات میں اگر وہ ایران کے عوام کی حمایت کا دعوی مگرمچھ کے آنسو بہانے کی مانند ہے۔
ایرانی عوام کی روز مرہ زندگی پر ان پابندیوں کے اثرات پڑرہے ہیں۔ مہنگائی میں اضافہ، ضروری اشیاء کی کمی، دواؤں اور طبی آلات کی درآمد میں رکاوٹ، اور اقتصادی تبادلے میں خلل، یہ سب وہ مسائل ہیں جن سے عام شہریوں براہ راست متاثر ہورہے ل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ معاشی دباؤ براہ راست امریکی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ اس لیے ٹرمپ کے کسی بھی بیان میں عوام کی نجات کا ذکر صرف پابندیوں اور دباؤ کی پالیسی کو جواز دینے کی کوشش ہے۔
مزید یہ کہ چند ماہ پہلے امریکہ اور صہیونی حکومت کی طرف سے ایران پر ایک حملہ بھی کیا گیا جس میں بے گناہ خواتین اور بچے بھی شہید ہوگئے۔ ایرانی عوام کا بے دردی سے خون بہانے والے ملک کے صدر کو ایرانی عوام سے ہمدردی یا حقوق انسانی کی بات کرنے کا کوئی حق نہیں۔
احتجاجی مظاہرے اور امریکہ کا دوہرا رویہ
ایک اور تضاد جسے ٹرمپ اور اس کے حامی نظر انداز کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ امریکہ خود اپنے ملک میں احتجاجات سے کیسے نمٹتا ہے۔ امریکہ میں بڑے پیمانے پر احتجاجات، جیسے "جان سیاہ فام لوگوں کے لیے اہم ہے" تحریک یا دیگر مظاہروں کے دوران ہمیشہ پولیس اور سکیورٹی اداروں نے شرکاء سے نمٹنے کے لیے سخت کارروائیاں کیں۔ بارہا حقوق انسانی کی تنظیموں نے اس پر تنقید بھی کی ہے۔ ایسا ملک جو خود اپنے مظاہرین کو دباتا ہے، دوسرے ممالک کے بارے میں اخلاقی طور پر فیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
یہ تضاد اتنا واضح ہے کہ امریکی میڈیا نے بھی اسے تسلیم کیا ہے۔ مثال کے طور پر، فاکس نیوز میں شائع ہونے والی تنقیدی رپورٹس بتاتی ہیں کہ ٹرمپ کے مداخلت آمیز بیان سے امریکہ کے اندر بھی کئی حلقے متفق نہیں۔ امریکی عوام کا ایک بڑا طبقہ اس کے منفی اثرات کے بارے تشویش رکھتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی تجربہ بتاتا ہے کہ امریکہ اور کچھ اتحادی اکثر دوسرے ممالک میں مظاہروں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن یہ طریقہ کار مسائل حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدگی اور تناؤ پیدا کرتا ہے۔
حاصل سخن
ٹرمپ کے بیانات کو صرف ان کی ذاتی رائے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ دراصل امریکہ کی خارجہ پالیسی کا ایک مستقل حصہ ہیں، جس میں بات چیت اور باہمی احترام کی جگہ دباؤ، دھمکیاں اور پابندیاں لے چکی ہیں۔
تجربے سے یہ واضح ہوا ہے کہ اس طریقہ کار سے نہ خطے میں امن قائم ہوسکتا ہے اور نہ ہی عوام کی زندگی میں بہتری آتی ہے۔ ایران کے عوام نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ بغیر کسی غیر ملکی مداخلت کے اپنے مسائل خود اپنے ملک میں حل کرسکتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آج جو دباؤ عوام پر ہے، اس کا ایک بڑا حصہ امریکہ کی پابندیوں اور مداخلت کی پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔
ٹرمپ اور نتن یاہو کو 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کی مزاحمت کا سخت سامنا کرنا پڑا اور اب وہ ایک ناکام منصوبے کو دوبارہ آزمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تجربے سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ بیرونی مداخلت یا دباؤ سے مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ عوام کی مزاحمت اور قومی اتحاد مضبوط ہوتا ہے۔
ٹرمپ کے حقوق انسانی کے دعوے اور دھمکیاں امریکہ کی مداخلتی پالیسیوں کا تسلسل اور ایران کے ساتھ براہ راست مقابلے سے ناکامی کی نشانی ہیں۔
آپ کا تبصرہ