18 دسمبر، 2025، 6:45 PM

عشق و عقیدت کا شاہکار: حرم علوی میں ایرانی فن تعمیر کے لازوال نقوش مکمل

عشق و عقیدت کا شاہکار: حرم علوی میں ایرانی فن تعمیر کے لازوال نقوش مکمل

نجف اشرف میں حرمِ امیر المومنین علی علیہ السلام کی توسیع کا عظیم ترین منصوبہ صحنِ حضرت زہرا (س) 14 سال کے دن رات کی محنت کے بعد مکمل گیا ہے، جسے حال ہی میں ایک پروقار تقریب میں عتبہ علویہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حرم امام علی علیہ السلام کی توسیع کی غرض سے 2012 میں صحنِ مبارک حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی تعمیر کا عظیم الشان منصوبے کا آغاز کیا گیا تھا۔ جس کی ذمہ داری مقدس مقامات کی تعمیرِ نو کمیٹی نے اٹھائی تھی۔ اب یہ منصوبہ اپنے آخری سنگِ میل تک پہنچ گیا ہے۔ 14 سال کی انتھک محنت، ایرانی انجینئرز، مزدوروں اور فنکاروں کے خون پسینے سے تیار ہونے والا یہ صحن حال ہی میں باقاعدہ طور پر عتبہ علویہ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

یہ منصوبہ نہ صرف جدید انجینئرنگ کا شاہکار ہے بلکہ اس میں ایرانی و اسلامی فنِ تعمیر کے تمام پہلو جیسے سنگ تراشی، کاشی کاری، آئینہ کاری، گچ کاری اور لکڑی کے نفیس کام کو اس مہارت سے برتا گیا ہے کہ دیکھنے والی آنکھ دنگ رہ جاتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق یہ عالمِ اسلام میں مسجد الحرام اور مسجدِ نبوی کے بعد تیسرا بڑا تعمیراتی منصوبہ ہے جس کی ڈیزائننگ اور تعمیر مکمل طور پر ایرانی ماہرین کے ہاتھ میں رہی۔

تاریخی طور پر حرمِ امام علی علیہ السلام کی تعمیر و مرمت میں ایرانیوں کا کردار صدیوں پر محیط ہے۔ آلِ بویہ، صفوی، افشاری اور قاجار دور کے حکمرانوں خصوصاً شاہ عباس صفوی، شیخ بہائی اور نادر شاہ افشار نے اس مقدس مقام کی تزئین و آرائش میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔

صدام دور کی آمریت اور انتفاضہ شعبانیہ کے دوران پہنچنے والے نقصانات کے بعد، شہید سردار قاسم سلیمانی وہ پہلی شخصیت تھے جنہوں نے رضاکارانہ طور پر حرم کی تعمیرِ نو کا بیڑہ اٹھایا اور مقدس مقامات کی تعمیر نو کمیٹی کی بنیاد رکھی۔

اس صحن کی سب سے اہم خصوصیت اس کا نام حضرت زہرا (س) سے منسوب ہونا ہے۔ شہید قاسم سلیمانی کے بقول، اس نام کا انتخاب اس لیے کیا گیا تاکہ نجف میں مولا علیؑ کے جوار میں مدینہ کی مظلوم اور بے نشان قبر والی بی بی کی یاد کو زندہ کیا جا سکے۔ اس منصوبے کے ذریعے حرمِ عتیق (قدیم حرم) جو گزشتہ 200 سال سے اپنی اصل حالت میں تھا، اب 18 گنا وسیع ہو چکا ہے، جس سے لاکھوں زائرین خصوصاً اربعین کے موقع پر رہائش اور دیگر سہولیات سے مستفید ہو سکیں گے۔

اقتصادی لحاظ سے بھی یہ منصوبہ ایک مثال ہے، کیونکہ اس میں استعمال ہونے والا بہترین مٹیریل اور رقم ایرانی مومنین نے عطیہ کیا ہے۔ صحنِ حضرت زہرا (س) محض ایک عمارت نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایرانی و اسلامی تمدن، آرٹ اور انجینئرنگ کا ایک زندہ و جاوید عجائب گھر ہے۔

News ID 1937168

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha