مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ کی سیاسی کونسل کے نائب سربراہ محمود قماطی نے کہا ہے کہ ضاحیہ پر ہونے والا اسرائیلی حملہ ایک نمایاں جهادی شخصیت کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا اور اس کے بعد تمام آپشنز کھلے ہیں۔
المیادین کے مطابق، محمود قماطی نے اسرائیلی جارحیت پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ لبنان کے خلاف صہیونی حملوں کا سلسلہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ صہیونی جارحیت کو روکنے کے لیے مزاحمت کے راستے پر قائم رہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جوابی کارروائی کے وقت یا نوعیت کے بارے میں دشمن کی باتیں ہمارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ اس بارے میں فیصلہ حزب اللہ کی قیادت کرے گی۔
قماطی کا کہنا تھا کہ حزب اللہ، لبنان کی حکومت کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے تاکہ اسرائیلی حملوں کو روکا جاسکے اور ملک کی سلامتی و خودمختاری کا تحفظ کیا جاسکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج کا حملہ سرخ لکیر کو پار کرنے کے مترادف ہے، اور یہ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو حملوں میں شدت لانے کا واضح اشارہ ہے۔
قماطی نے تصدیق کی کہ غاصب صہیونی فوج کے حملے میں ایک اہم جهادی کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کا نام مناسب وقت پر ظاہر کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آج کے حملے کے بعد حالات کوئی بھی رخ اختیار کرسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں اعلی قیادت مناسب فیصلہ کرے گی۔
حزب اللہ رہنما نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت اس حقیقت کا تازہ ثبوت ہے کہ دشمن کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ بے فائدہ ہے، اور ’’اسرائیل نہ کسی معاہدے کا احترام کرتا ہے، نہ نئے مذاکرات کا کوئی فائدہ ہے۔‘‘
انہوں نے امریکہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ’’امریکہ اسرائیلی قبضہ گروہ کا پشت پناہ ہے، اس لیے آتش بس کی نگرانی کی کمیٹی میں اس کی موجودگی قابلِ قبول نہیں۔‘‘
آپ کا تبصرہ