20 ستمبر، 2025، 10:39 AM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

عالمی سطح پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی مہم؛ اسرائیل کی بڑھتی تنہائی

عالمی سطح پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی مہم؛ اسرائیل کی بڑھتی تنہائی

متعدد ممالک کی طرف سے اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلان سے صہیونی نسل پرست حکومت کی تنہائی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: آسٹریلیا، فرانس، برطانیہ اور کینیڈا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں باضابطہ طور پر فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کریں گے۔

آسٹریلیا گروپ آف ایٹ کا آخری ملک ہے جس نے فلسطین کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم مغربی ممالک کی اس پیش رفت سے پہلے ہی بھارت، انڈونیشیا، جنوبی افریقہ اور لاطینی امریکا کے بیشتر ممالک فلسطین کو تسلیم کرچکے تھے۔ یہ سلسلہ دراصل انصاف پسندی اور نوآبادیاتی مخالف یکجہتی کے جذبے سے جڑا ہوا ہے۔

فرانس نے واضح طور پر بغیر کسی شرط کے اس اقدام کا وعدہ کیا ہے، جبکہ آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا نے مشروط یا ممکنہ تسلیم کرنے کی بات کی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت دو ریاستی حل کو ازسرنو زندہ کرنے کی کوشش ہے، خاص طور پر اس لیے کہ فرانس اور برطانیہ سلامتی کونسل کے مستقل اراکین ہیں۔ تاہم بعض مبصرین کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ بہت دیر سے کیا گیا۔

فرانسیسی حکومت نے اپنے مؤقف میں کہا کہ یہ دنیا کے تمام ممالک کے لیے ایک پیغام ہے کہ امن قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور اس تحریک کا حصہ بنیں جو ہم نے شروع کی ہے۔

اس وقت یہ بھی اہم ہے کہ دنیا کے 145 سے زائد ممالک پہلے ہی فلسطین کو تسلیم کرچکے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ نوآبادیاتی نظام سے آزادی حاصل کرنے والے ممالک فلسطینی خودمختاری اور انصاف پر مبنی پائیدار حل کے اولین اور مضبوط حامی رہے ہیں۔

1955 کی باندونگ ایشیائی-افریقی کانفرنس میں 29 ممالک نے فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد اور مسئلہ فلسطین کے پرامن حل پر زور دیا۔ اسی کانفرنس میں غیر وابستہ تحریک کی بنیاد رکھی گئی جس نے بارہا فلسطین کے حق میں عالمی سطح پر آواز بلند کی۔ افریقی یونین نے بھی بارہا فلسطین کی حمایت کی اور اسرائیل کی پالیسیوں کا موازنہ جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت سے کیا۔

1988 میں یاسر عرفات کی جانب سے فلسطین کو آزاد ریاست قرار دینے کے اعلان کے بعد کئی ایشیائی و افریقی ممالک اور لاطینی امریکا کی ریاستوں مثلا کیوبا اور نکاراگوئے نے بھی فلسطین کو تسلیم کیا۔ 2011 میں برازیل، چلی، ارجنٹائن، بولیویا اور ایکواڈور نے بھی اس فہرست میں شمولیت اختیار کی۔

یورپ میں پہلا قدم سویڈن نے 2014 میں اٹھایا، جبکہ حالیہ برسوں میں اسلووینیا، اسپین، آئرلینڈ اور ناروے نے بھی فلسطین کو باضابطہ تسلیم کرلیا ہے۔

1994 کے بعد سے جنوبی افریقہ فلسطین کا ایک مستقل حامی اور اسرائیلی جبر و استبداد کا سخت ناقد رہا ہے۔ جنوبی افریقہ کی نسل پرست مخالف تحریک کے کارکنان طویل عرصے سے اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ وہ خود سفید فام اقلیتی حکومت کے ظلم اور نسل پرستی کا شکار رہے۔ انہی تجربات کی بنیاد پر انہوں نے بارہا صہیونی حکومت اور جنوبی افریقہ کے نسلی امتیاز پر مبنی نظام کے درمیان مماثلتوں کی نشاندہی کی۔ یہی وجہ تھی کہ نسل پرست حکومت کے بعد جنوبی افریقہ کی نئی حکومت کا ایک ابتدائی اقدام 1995 میں فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا تھا۔

2002 میں عیسائی رہنما ڈزموند ٹوٹو نے ایک مضمون بعنوان مقدس سرزمین میں نسل پرستی شائع کیا، جس میں انہوں نے اسرائیلی پالیسیوں اور جنوبی افریقہ کے نسلی امتیازی نظام کے درمیان واضح مشابہت بیان کی۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1973 میں کنونشن برائے انسداد نسل پرستی منظور کیا جس کے تحت عالمی برادری نے نسل پرستی کو ایک بین الاقوامی جرم تسلیم کیا۔ اس کے بعد 1998 کے روم بیانیہ میں عالمی فوجداری عدالت نے نسل پرستی کو باضابطہ طور پر جرم قرار دیا۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے 2021 میں ایک جامع رپورٹ شائع کی جس میں شواہد پیش کیے گئے کہ فلسطینی صرف اپنی شناخت کی بنیاد پر زمین سے محروم کیے جارہے ہیں اور سخت جبر کا شکار ہیں۔ بعض صورتوں میں یہ جبر اتنا شدید ہے کہ اسے نسل پرستی  اور تشدد کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ اس رپورٹ نے محض اسرائیل اور جنوبی افریقہ کا تقابلی جائزہ نہیں دیا بلکہ اسرائیلی اقدامات کو ایسے حقائق کے طور پر پیش کیا جو بین الاقوامی قانون میں نسل پرستی کی تعریف کی حد سے بھی آگے نکلتے ہیں۔

آج دنیا ایک نئے دوراہے پر کھڑی ہے۔ اب یہ صرف جنایتِ نسل پرستی تک محدود نہیں رہا بلکہ نسل کشی کا پہلو بھی اس میں شامل ہوگیا ہے۔ جنوبی افریقہ پہلا ملک ہے جس نے بین الاقوامی برادری کی توجہ اس حقیقت کی جانب دلائی کہ صہیونی حکومت دونوں جرائمِ یعنی نسل پرستی اور نسل کشی دونوں کی مرتکب ہو رہی ہے۔

اس پس منظر میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اب فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا کی طرف سے فلسطین کو تسلیم کرنے کی بحث کیوں اٹھ رہی ہے اور یہ اقدام عملاً کیا تبدیلی لاسکتا ہے؟

یہ اقدامات اگرچہ زیادہ تر علامتی ہیں، لیکن یہ بات واضح کرتے ہیں کہ صہیونی حکومت کے اقدامات اور بیانات اب عالمی برادری کے لیے حتی کہ اس کے پرانے اتحادیوں کے نزدیک بھی، ناقابل قبول ہوچکے ہیں۔ یہی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنہائی اسرائیلی حکومت کے لیے ایک لمحۂ فکر ہونا چاہیے۔

نلسن منڈیلا کے وہ الفاظ جو انہوں نے 1997 میں کہے تھے آج بھی اسی شدت سے سچ ثابت ہوتے ہیں: "فلسطینی عوام کے آزاد ریاست کے حق پر محتاط اور خاموشی اختیار کرنا انسانیت پر ظلم ہے۔ انسانی مساوات اور برابری ہی ہماری پرامن جدوجہد کا مرکز ہونی چاہیے۔ آزادی صرف اسی وقت مکمل ہے جب ہر قوم اس سے مستفید ہو، چاہے وہ فلسطین ہو یا مشرقی تیمور، سوڈان ہو یا دنیا کا کوئی اور خطہ۔ جنوبی افریقہ کی آزادی فلسطینیوں کی آزادی کے بغیر نامکمل ہے۔"

جہاں تک آئندہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی بات ہے، ممکن ہے کہ آسٹریلیا، فرانس، برطانیہ اور کینیڈا فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں، لیکن اس سے فلسطین کی حیثیت میں فوری اور بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔ کیونکہ فلسطین کو بطور ناظر ریاست تسلیم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے خودکار طور پر اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت مل جائے گی۔ امریکہ اپنے ویٹو کے حق کے ذریعے اس عمل کو روک سکتا ہے۔

یہ بھی غیر یقینی ہے کہ مغربی ممالک کا یہ اقدام کس طرح غزہ اور مغربی کنارے میں جاری اسرائیلی حملوں کو رکوا سکتا ہے۔ البتہ ایک بات یقینی ہے کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی اکثریت ایک بار پھر اسرائیلی تسلط سے اپنی مخالفت کا اظہار کرے گی۔

ابھی تک اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ اسرائیل عالمی دباؤ کے آگے جھک جائے، لیکن جیسے مسلسل بین الاقوامی دباؤ نے جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خاتمے کو ممکن بنایا تھا، ویسے ہی عالمی رائے عامہ کا دباؤ صہیونی حکومت کے خلاف بھی ایک فیصلہ کن کردار ادا کرسکتا ہے۔

News ID 1935441

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha