مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ قاہرہ میں ایران اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے درمیان طے پانے والے حالیہ معاہدے کا آئندہ ہفتے جائزہ لے گی۔
تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا کہ پارلیمنٹ اس معاہدے پر تفصیلی بحث کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران تعاون کی بحالی کے لیے دو بنیادی شرائط پر قائم ہے۔ ایران ایٹمی مراکز اور سائنس دانوں کی مکمل سکیورٹی کی یقین دہانی چاہتا ہے۔ ایران کے ایٹمی حقوق کا باضابطہ اعتراف دوسری شرط ہے۔ ان شرائط کی خلاف ورزی کو قانونی طور پر جرم سمجھا جائے گا۔
ابراہیم رضائی نے واضح کیا کہ معاہدے میں ایٹمی تنصیبات تک رسائی شامل نہیں ہے اور ایران اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ ایجنسی کو متاثرہ تنصیبات کی نگرانی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد رہے کہ بدھ کے روز مصر میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا جس میں قاہرہ نے ثالث کا کردار ادا کیا تھا۔
آپ کا تبصرہ