25 اگست، 2025، 4:10 PM

پاکستانی صحافی کی مہر نیوز کے لیے خصوصی تحریر:

زیتون کے باغات پر قابض اسرائیلی فوج کا حملہ، فلسطینی شناخت مٹانے کی کوشش 

زیتون کے باغات پر قابض اسرائیلی فوج کا حملہ، فلسطینی شناخت مٹانے کی کوشش 

فلسطین میں زیتون کے درخت صرف پودے نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور روحانی علامت ہیں۔زیتون کے یہ پودے نسلوں کو زمین سے جوڑتے ہیں۔ یہ باغات شاعری، روایت اور ایمان کا حصہ ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی-محمد اکمل خان: مغربی کنارے کی ایک پہاڑی پر صبح کے سکوت میں ایک فلسطینی کسان خاموش کھڑا ہے۔ اُس کی نگاہوں کے سامنے اسرائیلی بلڈوزر آہستہ آہستہ اُس کے آبائی باغ میں داخل ہو رہے ہیں۔ مشینوں کی گرج دار آواز کے ساتھ لوہے کے نوکیلے دانت زمین میں پیوست ہو کر زیتون کی ان جڑوں کو کاٹ رہے ہیں جنہیں اُس کے دادا نے محبت اور محنت سے لگایا تھا۔ ہر ٹوٹتی شاخ اور ہر گرتے تنے کا منظر ایسے لگتا ہے جیسے اُس کی خاندانی تاریخ کا ایک باب مٹایا جا رہا ہو۔

فلسطین میں زیتون کے درخت صرف پودے نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور روحانی علامت ہیں۔زیتون کے یہ پودے نسلوں کو زمین سے جوڑتے ہیں۔ یہ باغات شاعری، روایت اور ایمان کا حصہ ہیں۔ ان کا پھل گھروں کا سہارا بنتا ہے لکڑی سردیوں میں حرارت فراہم کرتی ہے اور ان کی فصلیں صدیوں سے خوشی، صبر اور مزاحمت کی علامت رہی ہیں۔ زیتون کا درخت اُس عزم کا نشان ہے جو اپنی جڑوں سے وابستہ رہ کر زندگی کے طوفانوں کا مقابلہ کرتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق 1967ء کے بعد سے اب تک آٹھ لاکھ سے زائد زیتون کے درخت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جڑوں سے اکھاڑے جا چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور کا کہنا ہے کہ یہ عمل اُس وقت تیز ہو جاتا ہے جب اسرائیلی بستیاں پھیلتی ہیں۔ کبھی زیتون کی سرسبز شاخوں سے سجی یہ پہاڑیاں اب ویران ہو گئی ہیں۔ کئی خاندان جب واپس ا ٓکر اپنے باغات کی جگہ کٹے ہوئے تنے پاتے ہیں تو وہ محسوس کرتے ہیں کہ جیسے جنگلی کیڑوں نے ان سے ان کی یادیں چھین لی ہوں۔

زیتون کی کاشت فلسطین کی معیشت کا سہارا ہے۔ تقریباً 80 ہزار فلسطینی خاندان اس پیشے سے جڑے ہیں جو مجموعی زرعی آمدنی کا 15 فیصد فراہم کرتا ہے۔ یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ شناخت اور بقا کی لڑائی ہے۔ زیتون کے باغات اجاڑنا دراصل ایک تہذیب اور ایک قوم کو مٹانے کی منظم کوشش ہے۔

اقوامِ متحدہ اور غزہ کی وزارتِ زراعت کے مطابق اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے غزہ کے تین چوتھائی زیتون کے باغات صفحۂ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔ آزاد سیٹلائٹ تصاویر میں واضح دکھائی دیتا ہے کہ ایک زمانے میں لہلہاتے باغات اب بنجر زمینوں میں بدل گئے ہیں۔ فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں خوراک کی پیداوار تباہ ہو چکی ہے۔ لاکھوں افراد قحط کے دہانے پر ہیں اور اب ان کی بقا تقریباً مکمل طور پرعالمی امداد پر منحصر ہو گئی ہے جس پر اسرائیلی فوجی پابندی لگا چکے ہیں۔ 

زیتون کے باغات کو صفحہ ہستی سے مٹانا کسی جنگی کاروائی کو جواز فراہم نہیں کرتا ۔ نسلوں پرانے درخت جن سے لاکھوں افراد کا روزگار جڑا ہو انہیں کاٹ ڈالنا دراصل اجتماعی سزا کا ایک ظالمانہ ہتھیار ہے۔

بین الاقوامی قوانین اس پر بالکل واضح ہیں۔ چوتھی جنیوا کنونشن شہری املاک کی بلاجواز تباہی کی ممانعت کرتی ہے۔ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے مطابق خوراک کو جنگ کا ہتھیار بنانا ایک جنگی جرم ہے۔ یو این ہیومن رائٹس کونسل کے مطابق فلسطینی زرعی زمینوں اور زیتون کے باغات کو نشانہ بنانا انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ زیتون کے درخت فوجی خطرہ نہیں یہ زندگی کا ذریعہ ہیں جب کہ ان کا قتل دراصل انسانیت پر حملہ ہے۔

یہ المیہ مزید کربناک اس لیے ہے کہ صدیوں سے زیتون کی شاخ امن کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ قرآن، بائبل، قدیم روایات، حتیٰ کہ اقوامِ متحدہ کے جھنڈے پر بھی زیتون کی شاخ امن کا نشان ہے۔ مگر فلسطین میں بلڈوزر جب ان درختوں کو جڑوں سمیت اکھاڑ دیتے ہیں تو یہ امن کے امکانات کو بھی جڑ سے کاٹ دیتے ہیں۔ ہر گرا ہوا درخت ایک ٹوٹی ہوئی شاخ امن کا ایک ایسا خواب ہے جو کبھی پورا نہیں ہو سکے گا۔

دنیا مگر زیادہ تر خاموش ہے۔ زیتون کے باغات کی تباہی شاذ ہی عالمی خبروں کا حصہ بنتی ہے۔ فلسطینی صحافی جو اس المیے کو دنیا تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں 190 سے زیادہ صحافی شہید ہو چکے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا پر پابندی ہےمقامی آوازیں دبائی جاتی ہیں۔ یوں یہ تباہی ایک خاموش جنگ بن گئی ہے، ایک ایسی جنگ جس کا کوئی ریکارڈ نہیں اور جسے دنیا کا بیشتر حصہ دیکھ ہی نہیں پاتا۔

مگر ہر جگہ خاموشی نہیں ہے۔ خود اسرائیل اور مغرب میں کچھ زندہ ضمیر آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ مؤرخ ایلان پاپے نے زیتون کے درختوں کی تباہی کو “جان بوجھ کر شناخت کے خاتمے کی کوشش” کہا ہے۔ ممتاز دانشور رشید خالدی اور نوم چومسکی کے مطابق فلسطینیوں کی زندگی کو ناقابلِ برداشت بنانا ایک منظم نوآبادیاتی منصوبے کا حصہ ہے۔ خود فلسطینی کسان بھی کہتے ہیں کہ یہ نقصان صرف مالی نہیں بلکہ اُن کی پہچان اور ان کی امید کا زیاں ہے۔

پھر بھی یہ کہانی مایوسی پر ختم نہیں ہوتی۔ وہی کسان جن کے باغات بلڈوزر نے اجاڑ دیے، دوبارہ بیج بوتے ہیں۔ خاندان اپنے بچے کھچے درختوں سے لپٹ جاتے ہیں اور جو پھل بچتا ہے اسے محبت سے سنبھالتے ہیں۔ ایک فلسطینی کسان کا کہنا ہے کہ ’’زیتون کے درخت ہماری طرح ہیں۔ مضبوط، ضدی اور زمین میں جڑے ہوئے۔‘‘ یہ درخت کاٹے بھی جائیں تو اپنی جڑوں سے دوبارہ اُگ آتے ہیں۔ یہ خود فلسطین کی مزاحمت اور عزم کا استعارہ ہیں۔

یہ حوصلہ عالمی برادری کے لیے ایک امتحان ہے۔ اگر دنیا کو واقعی امن چاہیے تو اسے صرف فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع نہیں بلکہ زیتون کے درختوں کا بھی تحفظ کرنا ہوگا۔ بلڈوزر امن نہیں لا سکتے۔ زمین، شناخت اور تاریخ کو اجاڑ کر سلامتی ممکن نہیں۔ زیتون کے درختوں کا قتل دراصل اس امید کا قتل ہے جو ایک دن سب کو قریب لا سکتی تھی۔

وہ کسان جو اپنی آنکھوں کے سامنے دادا کے باغ کو اجڑتے دیکھ رہا ہے، یہ حقیقت جانتا ہے۔ زیتون کے درخت اُس کی یادیں تھے، اُس کا سہارا تھے۔ آج ان کے گرنے کا مطلب صرف ایک باغ کا نقصان نہیں بلکہ امن کے ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ اگر دنیا نے اب بھی کچھ نہ کیا تو وہ شاخیں جو کبھی امن کا پیغام لا سکتی تھیں، ہمیشہ کے لیے خاک میں مل جائیں گی۔

News ID 1935020

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha