مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی وزیر اعظم نتن یاو اور فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر کے درمیان شدید اختلافات نے کابینہ اور فوجی قیادت کے مابین کشیدگی کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔
روسیہ الیوم کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیر برائے داخلی سلامتی ایتمار بن گویر نے ایال زامیر کو کھلی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حکومت کی سیاسی پالیسیوں کے سامنے مکمل سر تسلیم خم کرے، یہاں تک کہ اگر کابینہ غزہ پر مکمل قبضے کا فیصلہ کرے۔
بن گویر نے کہا کہ غزہ پر قبضے کے حکومتی فیصلے پر زامیر کو ہر صورت میں اطاعت کرنی ہوگی۔
ادھر عبرانی ویب سائٹ وائی نٹ نے فوجی و سیاسی اداروں کے درمیان گہرے اختلافات اور تناؤ کی تصدیق کی ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نتن یاہو نے براہِ راست زامیر سے کہا کہ اگر وہ غزہ پر مکمل قبضے کے حکومتی منصوبے سے متفق نہیں تو وہ استعفیٰ دے سکتے ہیں۔
یہ تناؤ ایسے وقت میں شدت اختیار کررہا ہے جب حال ہی میں صہیونی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ طوفان الاقصی آپریشن کے بعد سے جاری ہنگامی جنگی حالت کو ختم کر رہی ہے، جسے ماہرین داخلی تقسیم کی ایک اور علامت قرار دے رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ