مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اسرائیل کی جانب سے حالیہ جنگ کے دوران انجام دیے گئے جرائم کی دستاویز بندی کر رہا ہے تاکہ ان شواہد کو بین الاقوامی اداروں میں پیش کیا جاسکے۔
وزارت خارجہ میں صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور اعلی سفارتی حکام کی موجودگی میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عراقچی نے وزارت خارجہ کی سفارتی کاوشوں کی تفصیلات بیان کیں جو جنگ کے دوران اور اس کے بعد انجام دی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ نے میدان جنگ میں موجود مسلح افواج کے شانہ بشانہ کام کیا، جو دفاعی اور سفارتی محاذ کے درمیان ہم آہنگی کی روشن مثال ہے۔ جب ہماری مسلح افواج نے دشمن کی جارحیت کا شجاعانہ دفاع کیا تو ہمارے سفارتکاروں نے شب و روز انتھک محنت سے دنیا کے سامنے ایران کا مؤقف پیش کیا۔
عراقچی نے کہا کہ ایرانی سفارتکاروں نے عالمی سطح پر ایرانی عوام کے حقِ دفاع کو قانونی اور اخلاقی بنیادوں پر اجاگر کیا۔ دشمن کے پسپا ہونے اور جنگ بندی کی درخواست کا سبب صرف میدانِ جنگ میں مزاحمت نہیں تھی، بلکہ حکومت ایران کی مؤثر حکمرانی اور سفارتی بصیرت بھی اس کا سبب بنی۔
وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ دنیا کے 120 سے زائد ممالک نے ایران پر حملوں کی مذمت کی اور حمایت کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور آئی اے ای اے بورڈ آف گورنرز کے علاوہ تقریبا تمام بین الاقوامی تنظیموں نے ایران کی حمایت کی۔
عراقچی نے مزید بتایا کہ وزارت خارجہ نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے بھوک، ادویات کی بندش اور دیگر غیر انسانی حربوں کے خلاف بھی بین الاقوامی سطح پر رابطے کیے ہیں، جنہیں جنگی جرم سمجھا جاتا ہے۔
آپ کا تبصرہ