مذاکرات میں دباؤ کو قبول نہیں کریں گے/ افغانستان سمیت ہمسایہ ممالک کی سلامتی ایران کی سلامتی ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم مذاکرات کے حامی اور طرفدار ہیں لیکن مذاکرات میں دباؤ اور دھمکیوں کو قبول نہیں کریں گے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے ایرانی ٹی وی کے چینل ایک کے ذریعہ عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم مذاکرات کے حامی اور طرفدار ہیں لیکن مذاکرات میں دباؤ اور دھمکیوں کو قبول نہیں کریں گے۔

صدر رئیسی نے کورونا وائرس کو ملک کا سب سے اہم مسئلہ قراردیتے ہوئے کہا کہ عوام کی سلامتی اہم ہے اور کورونا وائرس کو مہار کرنے کے لئےہم نے کورونا ویکسین کی بڑی مقدار باہر سے خرید لی ہے۔

ایرانی صدر نے اپنے انتخاباتی وعدوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سال میں ایک ملین گھروں کی تعمیر کا پروگرام مکمل کیا جائے گا اور کرپشن کے خلاف بھی تمام اداروں کو ضروری اقدامات کی ہدایت کردی گئي ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں عوام کے ساتھ سچ بولنا چاہیے، حکام کو صادق الوعد ہونا چاہیے۔ جہاں مشکل ہوگی عوام کو آگاہ کردیا جائےگا۔

صدر رئیسی نے کہا کہ ہم حال یا مستقبل کی زبان میں عوام سے بات نہیں کریں گے بلکہ ماضی کی زبان میں عوام سے بات کریں گے کہ ہم نے فلاں کام انجام دیدیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عوام کا اعتماد بہت بڑا سرمایہ ہے اور ہمیں اس عظیم سرمایہ کی بھر پور انداز میں حفاظت کرنی چاہیے۔

صدر رئيسی نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار امریکہ کو قراردیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے جہاں بھی قدم رکھا وہاں اس نے تباہی مچائی ہے افغانستان میں بھی امریکہ نے تباءي مچآئی ہے جو عالمی برادری کے سامنے ہے۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان کی حکومت کو عوامی ارادوں پر مشتمل ہونا چاہیے اور جو بھی حکومت عوامی ارادوں پر مشتمل ہوگی ہم اسے قبول کریں گے اور اس کے ساتھ تعاون کریں گے۔ صدر رئیسی نے کہا کہ افغانستان کی سلامتی ایران کی سلامتی ہے ایران اپنے تمام ہمسایہ ممالک کی سلامتی کو اپنی سلامتی سمجھتا ہے۔

News Code 1908044

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 2 =